قرآنی حل
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
فتبيینو ان تصيبوا قوما بجهالة فتصبحوا على ما فعلتم نادمين)، بھیونڈی اور بلی کے علاقہ کے مسلمانوں نے اگر قرآن کے اس حکم پر عمل کیا ہوتا تو یقیناً وہ اس فساد سے بچ جاتے جس میں کہا جاتا ہے کہ ان کا ایک ارب روپیہ کا نقصان ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی خبر سننے کے بعد اگر وہ اس کی باقاعدہ تحقیق کرتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ یہ خبر سرے سے غلط ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے بعد مسلمانوں میں وہ اشتعال پیدا نہ ہوتا جس کے ردعمل میں مذکورہ فساد ہوا۔ (تفصیل اگلے صفحات میں دیکھیں) ۲ ۔ لغو بیت سے اعراض اسی طرح قرآن میں اہل ایمان کی یہ صفت بتائی گئی ہے کہ وہ لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں (والذین هم عن اللغو معرضون)، اس آیت کے مطابق مسلمانوں کو چاہئے کہ جب نادان لوگ کوئی جہالت کریں یا کوئی اشتعال انگیز بات کریں تو وہ اس پر بر افروختہ نہ ہوں بلکہ اعراض کا طریقہ اختیار کریں۔ مسلمان اگر اس قرآنی حکم (اعراض) کو اختیار کر لیں تو یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ہندوستان میں تمام فسادات کی جڑ کٹ جائے۔ کیوں کہ بیشتر فسادات کا سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ نادانوں کی خرافات پر اعراض نہیں کر پاتے۔ وہ فوراً مشتعل ہو کر ان سے لڑنے لگتے ہیں۔ مثال کے طور پر پچھلے رمضان (جون ۱۹۸۳ء) میں مالیگاؤں کا فساد یقینی طور پر نہ ہوتا اگر مسلمانوں نے اعراض کا طریقہ اختیار کیا ہوتا۔ جیسا کہ معلوم ہے ، اس فساد کا آغاز اس طرح ہوا کہ یہاں ایک مسجد ہے جو غیر مسلم علاقہ میں واقع ہے۔ یہاں ۲۵ جون ۱۹۸۳ء کی رات کو تیرہ اوپچ کے وقت غیر مسلموں نے کسی وجہ سے پٹاخہ چھوڑا۔ چوں کہ یہ واقعہ مسجد کے دروازہ کے سامنے ہو ا اس لئے وہ مسلمانوں کے لئے قابلِ اغراض بن گیا۔ انھوں نے اس کور و کنے کی کوشش کی۔ اس سے ضد پیدا ہوئی جس کے نتیجہ میں دوسرے واقعات ہوئے۔ یہاں تک کہ باقاعدہ فساد ہو گیا۔ حالانکہ قرآن کی رو سے انھیں اس سے قطعاً اعراض کرنا چاہئے تھا۔ ۳ ۔ حمیت جاہلیہ نہیں قرآن میں معاہدہ حدیبیہ کے واقعہ کے ضمن میں ارشاد ہوا ہے کہ اہل کفر نے حب حمیت جاہلیہ کا مظاہرہ کیا تو اہل ایمان نے اس کے جواب میں حمیت جاہلیہ کا طریقہ اختیار نہیں کیا بلکہ وہ تقویٰ کی روش پر قائم رہے۔ (الفتح (۲۶) اہل ایمان کی طرف سے جوابی حمیت کا طریقہ اختیار نہ کرنے ہی کا یہ نتیجہ تھا کہ حدیبیہ کا معاہدہ ہو سکا جس کو خدا نے فتح مبین فرمایا اور جس کے صرف دو سال بعد عرب فتح ہو گیا۔ مسلمان اگر اس آیت پر عمل کریں تو اچانک ان کی تاریخ بالکل دوسرا رخ اختیار کر لے۔ نیز فسادات کا در وازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو جائے۔ فرقہ وارانہ فساد کی وجہ اکثر حالات میں یہی ہوتی ہے کہ فرقہ ثانی کی حمیت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader