ایک چھوڑی ہوئی سنّت
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ الفاظ ہیں : وعبد اللہ بن ابی بکر یظل بمکہ یتطلب الاخبار اور عبد اللہ بن ابی بکر ( دن میں ) مکہ میں رہ کر خبریں ثم یاتیهما اذا اظلم اللیل فیخبرهما ثم معلوم کرتے ۔ پھر جب رات کی تاریکی چھا جاتی یدلج من عندهما فیصبح بمکہ تو وہ ان کے پاس ( غار ثور ) میں آتے اور ان کو خبریں بتاتے ۔ پھر اندھیرے میں ان کے پاس سے چلے جاتے اور مکہ میں صبح کرتے تاکہ قریش کو خبر نہ ہوسکے ) ( مزید تفصیل کے لئے : السیرة النبویہ لابن کثیر ، جلد ۲ ، صفحه ۲۴۶ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حفاظت کے ساتھ مدینہ پہنچ گئے ۔ مگر چوں کہ آپ کے خلاف قریش کے عزائم ختم نہیں ہوئے تھے ، آپ نے ان کی خبریں لینے کا سلسلہ بدستور جاری رکھا ۔ ہجرت کے فوراً بعد جن سرایا کی روانگی کا ذکر حدیث کی کتابوں میں آتا ہے وہ زیادہ تر جاسوسی دستے تھے جو مکہ کے اطراف میں قریش کی سرگرمیوں کا پتہ لگانے کے لئے بھیجے گئے ۔ چنانچہ ان دستوں کی روانگی کے وقت آپ ان کو جو ہدایت دیتے تھے اس میں اس قسم کے الفاظ ہوتے تھے: فترصد بها تريثا وتعلم لنا من اخبارهم (سيرۃ البنی لابن ہشام، الجز الثانی، صفحہ ۲۳۹) یعنی قریش کی خبر گیری کے لئے بیٹھو اور ہم کو ان کی خبروں سے مطلع کرو۔ فریق مخالف کی تیاریوں اور اس کی سرگرمیوں کا پتہ لگانے کا یہ سلسلہ آخر وقت تک جاری رہا۔ جس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت بتاتی ہے کہ ہمارے یہاں ایک مستقل شعبہ خبروں کی فراہمی کا ہونا چاہئے۔ اس قسم کا شعبہ عام غیر مسلم اقوام کے سلسلے میں بھی ضروری ہے اور ہندوستان کے مخصوص حالات میں بھی ضروری ہے۔ ہندوستان میں اس شعبہ کا کام یہ ہونا چاہئے کہ وہ مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کے احوال کی مستقل خبر گیری کرتا رہے وہ دونوں طرف کی صحیح اطلاع فراہم کرے۔ یہ شعبہ جدید ترین ذرائع کو استعمال کر کے مکمل طور پر باخبر رہے۔ وہ تمام اسلامی مراکز کو اطلاعات فراہم کرے۔ ایک فریق کے بارے میں کوئی غلط خبر پھیلے تو فوراً اس کا مکمل توڑ کیا جائے۔ جب بھی کہیں کوئی غیر ضروری اشتعال پیدا ہو تو فوراً مسلم قیادت حرکت میں آجاۓ اور اس کو آخری سنگینی تک پہنچنے سے پہلے ابتدائی مرحلہ میں دفن کر دیا جاۓ۔ جب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader