Urdu book · حل یہاں ہے

ایک چھوڑی ہوئی سنّت

Urdu book, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

بھی ایک فریق دوسرے فریق کے خلاف سازش کرتا ہو ملے تو فوراً اس کی سازش کو بے نقاب کیا جائے اور ہر قسم کے پر امن ذرائع کو اختیار کر کے اسے ابتدائی مرحلہ ہی میں ناکام بنا دیا جائے۔ اس سلسلے میں مراد آباد کے فساد کی مثال لیجئے۔ یہاں مسلمانوں نے غیر مسلموں کی ایک شادی پارٹی کو روکا اور کہا کہ مسجد کے راستہ کو چھوڑ کر دوسرے راستے سے اپنا جلوس لے جاؤ۔ غیر مسلم اس پر راضی نہیں ہوئے تکرار بڑھتی گئی یہاں تک کہ باقاعدہ لڑائی شروع ہو گئی۔ کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں نے غیر مسلموں کو مارا اور انھیں بھگا دیا۔ یہ واقعہ ۴ جولائی ۱۹۸۰ کو ہوا۔ اس کے بعد دو ہفتہ تک مکمل خاموشی رہی۔ یہاں تک کہ ۱۳ اگست ۱۹۸۰ کو زہر دست فساد ہوا جس میں مسلمانوں کی معاشیات تباہ کر دی گئیں مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ۱۳ اگست ان کی عید کا دن تھا۔ اس روز مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد عید گاہ میں جمع تھی۔ چنانچہ پیشگی منصوبہ کے تحت عید گاہ میں خنزیر داخل کیا گیا۔ یہاں پہلے سے غیر مسلم لڑکے مسلمانوں کے لباس میں عید گاہ کے اندر بیٹھا دئے گئے تھے۔ انھوں نے خنزیر کے داخل ہوتے ہی پتھراؤ شروع کر دیا اور پولیس کے حفاظتی دستہ کو بھی مارا۔ اس طرح اشتعال بڑھا اور فساد پھوٹ پڑا۔ اس طرح اختلاف پیدا اور فساد پُھوٹ پڑا۔ مگر سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا کہ ۲ جولائی سے لے کر ۱۳ اگست تک مسلمانوں کے خلاف تیاری کی گئی مگر شہر کے مسلمانوں کو آخروقت تک اس کی اطلاع نہ ہوسکی۔ اسی بے خبری میں اس سوال کا جواب چُھپا ہوا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ پچھلے پچاس سال سے مسلمان ایک ہی شکایت لئے بیٹھے ہیں۔ وہ آج تک اس کا علاج نہ کرسکے۔ وہ یہ کہ ان کے خلاف منصوبہ بند فساد کرائے جاتے ہیں۔ یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو دوسرے لوگ اگر منصوبہ بند فساد کے قصوروار ہیں تو مسلمان اس کے قصوروار ہیں کہ وہ اپنے خلاف منصوبوں سے اس وقت تک باخبر نہیں ہوتے جب تک وہ اپنے آخری انجام کو نہ پہنچ جائیں۔ فساد کے بعد تمام مسلم قائدین تیزرفتار سوار یوں پر دوڑتے ہیں تاکہ وہ حکومت کے ذمہ داروں سے مل کر انہیں فسادیوں کی تخریب کاری کی اطلاع دے سکیں ۔ اس قسم کی سرگرمیاں سراسر بے فائدہ ہیں۔ ہونا یہ چاہئے کہ ہماری قیادت کو فسادیوں کے منصوبہ کی پیشگی طور پر مکمل اطلاع ہو جائے اور وہ حادثہ سے پہلے ذمہ داروں کو باخبر کرنے کے لئے سرگرم ہو جائیں۔ اور اس سے بڑھ کر مسلمانوں کی تربیت کے لئے۔ فساد کی روک تھام کے لئے ہمیں جو کچھ کرنا ہے اس میں سے ایک یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی تہرای اخبار کی سنت کو زندہ کیا جائے محض شکایت اور احتجاج کرتے رہنے سے کوئی فائدہ نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page