فسادات کا مسئلہ
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
فسادات کا مسئلہ فرقہ وارانہ فسادات کا مسئلہ ہمارے قائدین کی سب سے زیادہ توجہ کا مرکز رہا ہے۔ پچھلے ۳۵ سال میں ہماری قیادت نے جس واحد مسئلہ پر سب سے زیادہ توجہ دی ہے وہ یہی مسئلہ ہے۔ ہر بار جب کوئی فساد ہوتا ہے تو مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے لوگ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ تقریریں کی جاتی ہیں۔ بیانات جاری ہوتے ہیں۔ ریلیف فنڈ قائم ہوتے ہیں۔ غرض سرگرمیوں کا ایک طوفان امنڈ پڑتا ہے۔ ان فسادات کے سلسلہ میں ہمیں جو کچھ کرنا ہے وہ اگر یہی ہو جواب تک ہوتا رہا ہے تو یہ کام اس ملک میں اتنے بڑے پیمانہ پر ہو چکا ہے کہ اب تک فسادات کا خاتمہ ہو جانا چاہئے تھا۔ مگر عملی صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ موجودہ کوششوں کی یہ ناکامی آخری طور پر ثابت کر رہی ہے کہ یہ مسئلہ کا حل نہیں۔ اگر وہ اس کا حل ہوتا تو ۳۵ سال کی مدت کافی تھی کہ اس کا کوئی مفید مطلب نتیجہ برآمد ہو۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ ہم اس معاملہ پر از سر نو غور کریں اور اپنے طریق عمل کو دوبارہ نئے ڈھنگ سے مرتب کریں۔ فسادات کا پس منظر ہمارے ملک میں جو فرقہ وارانہ فسادات ہوتے ہیں ، عام طور پر ان کے آغاز میں ایک چھوٹا سا واقعہ ہوتا ہے۔ ایک چھوٹے واقعے پر ہیت ناک فساد کا پیدا ہو جانا اتفاقاً نہیں ہوتا۔ اس کے تاریخی اور نفسیاتی اسباب ہیں۔ ہم خواہ اس کو مانیں یا نہ مانیں، یہ ایک حقیقت ہے کہ پڑوسی قوم میں ہمارے خلاف مستقل طور پر ایک حریفانہ جذبہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب تقسیم کی سیاست ہے۔ ملک کی تقسیم بجائے خود برادرانِ وطن کو مشتعل کرنے کے لئے کافی تھی۔ مزید یہ کہ تقسیم اس ڈھنگ سے ہوئی کہ تقسیم ہو کر بھی بہت سے نازک مسائل غیر حل شدہ حالت میں باقی رہ گئے۔ اس طرح کے مختلف تاریخی اسباب ہیں جنھوں نے برادرانِ وطن کو مسلسل طور پر ہمارے خلاف مشتعل کر رکھا ہے۔ گویا یہ ایک لاوا ہے جو دلوں میں چھپا ہوا ہے اور کوئی موقع پاتے ہی اچانک پھٹ پڑتا ہے۔ مجھے تسلیم ہے کہ کوئی شخص معقول بنیادوں پر یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ تقسیم کی تحریک خود بھی فریقِ ثانی کے کسی عمل کار رد عمل تھی۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس دعوے کا عملی فائدہ کیا ہے؟ اس قسم کے دعوے کی اہمیت اس وقت ہوتی ہے جب کہ کسی مسئلے کا صرف منطقی تجزیہ کرنا مقصود ہو، آدمی کے حقیقی معاملات سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔ مگر جب کوئی معاملہ فوری زندگی کا معاملہ بن جائے تو ہر عقل مند آدمی کا یہ طریقہ ہے کہ وہ منطقی سلسلہ کو توڑ کر عملی پہلو کو سامنے رکھتا ہے تاکہ وہ اپنے عملی اقدام کے بارے میں کوئی فیصلہ لے سکے۔ دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانے کی بحث کو اگر لمبا کیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم اپنے اقدام کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کر سکیں گے اور اصل مسئلہ بدستور اپنی جگہ باقی رہے گا۔ چھری اگر خربوزہ کی سطح تک پہنچ چکی ہو تو اس وقت منطق کی عدالت میں چھری کو ملزم ٹھہرانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسے وقت میں اپنے کو فریقِ ثانی کی زد سے ہٹانے کا سوال ہوتا ہے نہ کہ الفاظ کی دنیا میں فریقِ ثانی کو ذمہ دار ثابت کرنے کا۔ یہ ایک معلوم اور مسلّمہ حقیقت ہے کہ کبھی منطقی تقاضے کے مقابلہ میں عملی پہلو زیادہ اہم ہوتا ہے، اور زیرِ بحث معاملہ میں صورتِ حال بلاشبہ یہی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader