Urdu book · حل یہاں ہے

فسادات کا مسئلہ

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

شہر کی ایک عمارت میں ایک مسلمان نے نیچے کا حصہ کرایہ پر لیا۔ کچھ دن کے بعد اس نے محسوس کیا کہ چھت ٹپک رہی ہے۔ اوپر کے حصہ میں جو صاحب رہتے تھے ان کا غسل خانہ ٹپکنے لگا تھا۔ مستقل پانی کا ٹپکنا ایک مصیبت تھا۔ مزید یہ کہ یہ گندا پانی تھا، کیونکہ غسل خانہ اور بیت الخلاء دونوں ایک ساتھ ملے ہوئے تھے۔ نیچے والے نے اوپر والے سے کہا تو انھوں نے کوئی توجہ نہ دی۔ اس کے بعد اس نے محلہ والوں سے کہا اور اپنی مصیبت ان کو دکھائی۔ مگر انھوں نے بھی کوئی دردمندی ظاہر نہ کی۔ ایک شخص نے کہا " بھائی ، ہمارے شہر کا رواج تو یہ ہے کہ جس کے سر پر ٹپکے وہ بنوائے۔" کرایہ دار نے کہا کہ یہ تو کوئی بات نہیں۔ اصول یہ ہونا چاہئے کہ " جو ٹپکائے وہ بنوائے" ، مگر اس نے محسوس کیا کہ اس کے دلائل بے زور ثابت ہو رہے ہیں۔ یہ سارے لوگ مسلمان تھے۔ اس نے قرآن و حدیث کے احکام سنائے مگر قرآن و حدیث کے الفاظ بھی ان کے دل کو پگھلانے کے لئے کافی ثابت نہ ہوئے۔ کچھ دوستوں نے مشورہ دیا کہ تم ان کے خلاف نوٹس دو اور مقدمہ قائم کرو۔ مگر اس نے غور کیا تو مقدمہ کے اخراجات اور اس کی مدت اتنی زیادہ تھی کہ عملاً اس کے لئے اس کا کوئی فائدہ نہ تھا۔ بالآخر اس نے اپنے پاس سے خرچ کر کے خود اس کو بنوا دیا۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ذاتی معاملہ میں آدمی کیا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ ذاتی معاملہ میں ہر آدمی یہ کرتا ہے کہ وہ اس بحث میں نہیں پڑتا کہ کون صحیح ہے اور کون غلط۔ وہ جانتا ہے کہ موجودہ دنیا میں دلیل سے زیادہ مزدور روی چیز ہیں۔ دلیل کے خواہ ملنے ہی بڑے پیمانہ پر کسی کو مجرم ثابت کر دیا جائے عملی طور اس سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا کیونکمہ آج کی دنیا میں کوئی ایسا نہیں ہے جو دلیل کے آگے اپنے کو جھکا دے۔ اس سلسلہ میں مسلمان اور غیر مسلمان حتی که دین دار اور بے دین کا بھی کوئی فرق نہیں۔ یہ بات اپنے ذاتی معاملہ میں ہر شخص جانتا ہے۔ اس لئے جب کوئی ذاتی معاملہ ہوتا ہے۔ بالمفاظ دیگر’’ پانی اپنے سر ٹپکتا ہے‘‘ تو وہ فوراَ جان لیتا ہے کہ دلیل اور بحث سے کوئی فائدہ نہیں ۔ وہ اپنے آپ پر ذمہ داری لیتے ہوئے فوراَ یہ کرتا ہے کہ معاملہ کو خود درست کر لیتا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ زندگی کا یہی سادہ اصول ملت کے معاملہ میں کوئی شخص اپنانے کے لئے تیار نہیں۔ ملت کا سوال آتے ہی ہر شخص اس کوشش میں لگ جاتا ہے کہ وہ فریق ثانی کو ملزم ثابت کرے۔ یہ سنگین واقعہ بھی لوگوں کے ہوش میں کوئی کمی نہ کر سکا کہ ۳۵ سالہ کوشش کے باوجود داہی تک اس طریق عمل کا کوئی فائدہ نہیں نکلا۔ یہ صورت حال اتفاقاً نہیں۔ اس کے گہرے اسباب ہیں۔ دوسرے کو ملزم ٹھہرانا سب سے آسان کام ہے اور خود ذمہ داری قبول کرنا اس کے مقابلہ میں اتنا ہی مشکل ہے۔ دوسرے کو ملزم کہ ہرانا ہو تو الفاظ بول کر ذمہ داری ادا ہو جاتی ہے۔ مگر جب آدمی خود ذمہ داری قبول کرے تو پھر عمل اور جد وجہد کے طویل تقاضے سامنے آجاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے قائدین صرف الفاظ بول کر قیادت کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں۔ وہ کچھ کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اگر وہ فی الواقع کرنے کی تڑپ رکھتے تو ان کا انداز بالکل دوسرا ہوتا ۔ زندگی کا راز یہ ہے کہ حالات کے اندر موجود عوامل کو استعمال کیا جائے۔ اور حالات کے غیر معمولی بگاڑ کے باوجود یہاں ایسے عوامل موجود ہیں جن کو ہم اپنے حق میں استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دو فریقوں کے درمیان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page