فسادات کا مسئلہ
Urdu book, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن وحدیث کی روشنی میں اب دیکھئے کہ اس معاملے میں قرآن وحدیث کی رہنمائی کیا ہے۔ قرآن میں یہود کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ خدا ان پر غضب ناک ہوا (اور ان پر دنیوی سزائیں بھیجیں) ایسا اس لئے ہوا کہ وہ اپنے درمیان برائی کرنے والے کو برائی سے نہ روکتے تھے (کانوا لا یتنا ھون عن منکر فعلوه، مائده ۷۹) حدیث میں اس کی مزید وضاحت ہے۔ ایک حدیث ہم یہاں نقل کرتے ہیں : ان الناس اذا رأوا الظالم فلم يأخذ و علیٰ لوگ جب ظلم کرنے والے کو دیکھیں اور اس کا ہاتھ نہ يَدَيهِ اَوْشَكَ اَنْ يَعُمَّهُمُ اللهُ بِعِقابٍ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ ان پر اپنی سزا کو عام منه (ابوداوٴد، ترمذی ،نسائی) کردے۔ اس سے معلوم ہوا کہ "اجتماعی فساد" کا سبب ہمیشہ "انفرادی فساد" ہوتا ہے۔ اس لئے اجتماعی فساد کو روکنے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ انفرادی فساد کو روکا جائے۔ اس ہدایت کے مطابق مسلم معاشرہ کو اتنا زندہ اور چوکنارہنا چاہئے کہ اس کا کوئی آدمی اگر کوئی شرارت کرے تو فوراً اس پاس کے لوگ جاگ اٹھیں اور ابتدایہی میں شریر کا ہاتھ پکڑ لیں۔ معاشرہ کا کوئی فرد اگر کسی آدمی کے ساتھ برائی کرے تو بقیہ لوگ غیر جانب دار بن کر نہ رہ جائیں بلکہ وہ فوراً موقع پر پہنچیں اور برائی کرنے والے آدمی اور اس کی برائی کو درمیان سے اٹھا باہر کریں، اگر وہ اس ابتدائی موقع پر نہ طے ہوکر بیٹھ جائیں گے تو اس کے بعد یہ ہوگا کہ ایک آدمی کی شرارت ایسے عمومی فتنے برپا کرے گی جس کی لپیٹ میں پوری قوم آجائے گی۔ مذکورہ اسلامی ہدایت براہ راست طور پر آج کل کے فسادات پر چسپاں ہوتی ہے مسلمان اپنی بڑھی ہوئی جذباتیت کی وجہ سے اکثر یہ غلطی کرتے ہیں کہ ایک معمولی بات کو برداشت نہیں کر پاتے اور دوسرے سے لڑ جاتے ہیں۔ یہ ''دوسرا‘‘، اگر خود اپنی قوم کا آدمی ہے تو اس کا نقصان اکثر ایک آدمی یا ایک خاندان تک محدود رہتا ہے۔ لیکن یہ دوسرا آدمی اگر دوسرے فرقہ سے تعلق رکھتا ہو تو ایک مسلمان کی جذباتی کارروائی فورا پوری قوم کو مشتعل کردیتی ہے۔ موقع پرست لیڈر اشتعال انگیز تقریریں کر کے اس کو فرقہ وارانہ مسئلہ بنا دیتے ہیں۔ اور اس کے بعد ایسا فساد برپا ہوتا ہے جو پوری کی پوری آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ علی گڑھ اور مراد آباد کا مذکورہ واقعہ اور اسی قسم کے دوسرے واقعات اس کا عملی ثبوت ہیں۔ چونکہ فسادات اکثر اُن مقامات پر ہوتے ہیں جہاں مسلمان اقتصادی اعتبار سے نسبتاً بہتر ہیں۔ اس لئے یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ یہ مسلمانوں کی اقتصادیات کو برباد کرنے کی منظم سازش کے تحت ہو رہا ہے۔ حالانکہ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ مسلمان جن مقامات پر بہتر حیثیت میں ہیں وہیں وہ جذباتی حرکتیں بھی زیادہ کرتے ہیں۔ کسی آدمی کو پر جوش کارروائی کرنے کے لئے ہمیشہ سماجی پشت پناہی درکار ہوتی ہے اور یہ سماجی پشت پناہی ان مقامات کے مسلمانوں کو آسانی مل جاتی ہے جہاں مسلمان اقتصادی اعتبار سے بہتر ہوں۔ مسلمانوں کے آپس کے جھگڑے اور اختلافات بھی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader