فسادات کا مسئلہ
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
وہاں الیکشن مسئلہ کو ختم نہیں کرتا بلکہ مسئلہ کو نئی صورت میں زندہ رکھنے کا سبب بن جاتا ہے ۔ فساد کیسے ہوتا ہے کوئی فساد کس طرح شروع ہوتا ہے اور وہ کس طرح بڑھتا ہے ، اس کو سمجھنے کے لیے علی گڑھ اور مراد آباد کے فساد کی مثال لیجیے ۔ علی گڑھ میں ہر سال دنگل ہوتا ہے جس میں ہندو اور مسلمان دونوں حصہ لیتے ہیں۔ اگست ۱۹۸۰ کے دنگل میں مسلم پہلوان کو یہ شکایت ہوئی کہ اس کے ساتھ دھاندلی کی گئی ہے۔ اس کی شکایت کا خاص نشانہ سریش بھورے تھا جس سے اس کی پہلے سے بھی رقابت چلی آ رہی تھی۔ دنگل کی شکایت کے بعد مسلمان پہلوان نے طے کر لیا کہ سریش بھورے سے انتقام لینا ہے۔ وہ اور اس کے ساتھی اسی فکر میں رہے۔ یہاں تک کہ ۳ اکتوبر ۱۹۸۰ کی شام کو انصار احمد اور اس کے ساتھی سریش بھورے کو اکیلا پا گئے۔ انھوں نے اس کے اوپر چھری سے حملہ کیا۔ سریش بھورے کو سخت زخمی حالت میں اسپتال لے جایا گیا، جہاں اس نے اپنے قاتلوں کے بارے میں نام زد بیان درج کرایا۔ وہ زخم سے جانبر نہ ہوسکا اور ۵ اکتوبر ۱۹۸۰ کو مر گیا۔ سریش بھورے کا مرنا شہر کے ہارے ہوئے فرقہ پرست لیڈروں کو سنہری موقع ملنا تھا۔ انھوں نے سریش بھورے کا جلوس نکالا اور نعرہ لگایا کہ "خون کا بدلہ خون" انھوں نے اپنی اشتعال انگیز تقریروں سے پورے شہر کی فضا خراب کردی۔ یہاں تک کہ وہ فساد شروع ہوا جس نے علی گڑھ کو خاکستر بنا دیا ۔ اب مراد آباد کو لیجئے۔ ۱۹۸۰ کے آغاز میں یوپی اسمبلی کا جو الیکشن ہوا اس میں کانگریس آئی کے امیدوار حافظ محمد صدیق بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ جن سنگھ (بھارتیہ جنتا پارٹی) کے امیدوار ڈاکٹر ہنس راج چو ٹہرہ کو اتنے کم ووٹ ملے کہ ان کی ضمانت ضبط ہوگئی۔ حافظ محمد صدیق کو نہ صرف مسلمانوں کے ووٹ ملے بلکہ ہندوؤں کی بھی ایک بڑی تعداد نے ان کو ووٹ دیا۔ ہارے ہوئے سیاست دانوں کو اس واقعہ کا شدید غم تھا۔ وہ کسی موقع کی تلاش میں تھے۔ ان کی خوش قسمتی سے جلد ہی ان کو یہ موقع ہاتھ آ گیا۔ ۲۷ جولائی ۱۹۸۰ کو سرائے کشمالال میں مہتروں کی ایک بارات جارہی تھی۔ یہ شام کا وقت تھا اور مغرب کی اذان ہونے والی تھی ۔ بارات کے ساتھ ان کے رواج کے مطابق ناچ اور باجا بھی تھا۔ اس وقت چند مسلمانوں نے آگے بڑھ کر بارات کوروکا اور کہا کہ مسجد کے پاس شور بند کرو اور بارات کو دوسرے راستہ سے لے جاؤ۔ بارات والے اس کے لئے راضی نہ ہوئے۔ اس پر تکرار ہو گئی۔ یہاں تک کہ باقاعدہ لڑائی شروع ہو گئی۔ اس لڑائی میں مزید مسلمان شریک ہو گئے۔ وہ مہتروں کا پیچھا کرتے ہوئے ایک فرلانگ کے فاصلہ پر مہتر بستی تک گئے، وہاں انھوں نے مہتروں کو مارا اور مکانات کو آگ لگائی۔ اب ڈاکٹر ہنس راج چو ٹہرہ اور ان کے جیسے دوسرے لوگوں کی باری تھی۔ انھوں نے مراد آباد اور اطراف مراد آباد میں اشتعال انگیز تقریریں کر کے فضا کو انتہائی تک کر دیا۔ اس کے بعد ۱۳ اگست ۱۹۸۰ عید کا دن تھا۔ اس دن عید گاہ میں سور کے داخلہ سے مسلمان مشتعل ہو گئے اور انھوں نے پولیس پر پتھر مارے ۔ فضا تیار تھی ۔ اس کے فوراً بعد مکمل پیمانہ پر فساد شروع ہو گیا۔ اور مراد آباد کی مسلم آبادی خاک وخون کی نذر ہو کر رہ گئی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader