Urdu book · حل یہاں ہے

فسادات کا مسئلہ

Urdu book, p. 52

By Maulana Wahiduddin Khan

کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ فسادات ہمیشہ سازش کے تحت ہوتے ہیں اور یہ سازش کچھ فرقہ پرست اور فسطائی جماعتیں کرتی ہیں۔ ان جماعتوں کا یہی مشن ہے اور اسی مقصد کے تحت انہوں نے اپنے آدمیوں کو تیار کر رکھا ہے۔ بالفرض یہ بات صحیح ہو تب بھی میں کہوں گا کہ یہ دنیا مقابلہ کی جگہ ہے۔ یہاں بہرحال ایسا ہوگا کہ ایک دوسرے کے خلاف تدبیریں کرے گا۔ اس لئے اصل کام ایسی جماعتوں کا انکشاف کر کے ان کے خلاف چیخ پکار کرنا نہیں ہے بلکہ خاموش منصوبہ کے تحت ان کی کاٹ کے لئے اپنے کو مستعد کرنا ہے۔ تجربہ ثابت کرتا ہے کہ ہر گروہ کے خلاف اس کا حریف تدبیریں کرتا ہے اور ہر تدبیر کو دانشمندی کے ساتھ ختم کیا جا سکتا ہے۔ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ان کے لئے ہر طرف میدان خالی ہو اور ان کے خلاف کوئی "سازش" کرنے والا کہیں موجود نہ ہو ان کو خدا کی اس دنیا کو چھوڑ کر کوئی دوسری دنیا اپنے لئے بنانی چاہیے۔ کیونکہ خدا نے اپنی دنیا جس قانون کے تحت بنائی ہے وہاں تو یہی ہوگا ۔ پیغمبروں کے لئے بھی خدا نے اس معاملہ میں استثناء نہیں رکھا۔ پھر ہمارے لئے استثناء کیسے ہو سکتا ہے۔ سابق اہل کتاب کی مثال اب اس سلسلہ میں ایک اور آیت کا مطالعہ کیجئے۔ سورہ بقرہ میں یہود کو خطاب کر کے ارشاد ہوا ہے : ہم نے تم سے عہد لیا تھا کہ تم اپنوں کا خون نہ بہاؤ گے اور اپنے لوگوں کو گھر سے بے گھر نہ کرو گے۔ تم نے اس کا اقرار کیا اور تم خود اس کے گواہ ہو۔ پھر تم ہی وہ ہو کہ اپنوں کو قتل کرتے ہو اور اپنے ایک گروہ کو ان کی بستیوں سے نکالتے ہو۔ ان کے خلاف گناہ اور زیادتی کر کے ان کے دشمنوں کی مدد کرتے ہو۔ پھر اگر وہ تمھارے پاس قیدی ہو کر آتے ہیں تو ان کا فدیہ دے کر چھڑاتے ہو۔ حالانکہ ان کا نکالنا ہی تم پر حرام تھا۔ کیا تم کتاب الہی کے ایک حصہ کو مانتے ہو اور اس کے دوسرے حصہ کا انکار کرتے ہو۔ پس تم میں سے جو لوگ ایسا کریں ان کی سزا اس کے سوا کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں رسوا ہوں اور آخرت کے دن سخت ترین عذاب کی طرف پھیر دئے جائیں اور اللہ اس سے بے خبر نہیں جو تم کرتے ہو (بقرہ ۸۴ - ۸۵) قدیم مدینہ میں دو عرب قبیلے (اوس اور خزرج) آباد تھے۔ اس کے علاوہ کچھ یہودی قبیلے (بنو نضیر، بنو قریظہ، بنو قینقاع) تھے جو باہر سے آکر یہاں بس گئے تھے۔ ان یہودی قبائل نے اپنے تعصبات اور قومی اغراض کے تحت عرب قبیلوں سے حلیفانہ تعلقات قائم کر رکھے تھے۔ عرب قبائل جب باہم لڑتے تو یہودی قبیلے بھی اپنے اپنے مشرک حلیفوں کے ساتھ مل جاتے اور اس طرح دو عرب محاذوں میں شریک ہو کر ایک یہودی قبیلہ دوسرے یہودی قبیلہ سے جنگ کرتا ۔ ہجرت نبوی سے چند سال پہلے مدینہ میں جنگ بعاث ہوئی جو مدینہ کے مشرک قبائل کی باہمی جنگ تھی۔ اس جنگ میں یہود کے قبیلہ بنو نضیر اور بنو قریظہ نے اوس کا ساتھ دیا اور بنو قینقاع نے خزرج کا۔ اس طرح اوس اور خزرج کی باہمی جنگ میں خود یہودی بھی باہم ایک دوسرے کے خلاف لڑ پڑے۔ اس قسم کی باہمی مقابلہ آرائی سراسر شریعت الہی کے خلاف تھی۔ مگر جب جنگ ختم ہوتی تو دونوں طرف کے یہودی لیڈر " امدادی کام" شروع کر دیتے تاکہ ملت یہود کے لئے جہاد کرنے کا ثواب بھی انہیں مل جائے۔ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page