Urdu book · حل یہاں ہے

فسادات کا مسئلہ

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

جاہلانہ معرکہ آرائی میں جب ایک یہودی قبیلے کے لوگ دوسرے قبیلے کے ہاتھ قید ہو جاتے تو مغلوب قبیلہ فدیہ دے کر اپنے دینی بھائیوں کو دشمنوں کے ہاتھ سے چھڑاتا اور اپنے اس عمل کے لئے تو رات کے احکام کا حوالہ دیتا جن میں ایک یہودی پر دوسرے یہودی کی مدد کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ حالاں کہ یہ ایسا ہی تھا جیسے ایک شخص کسی مسلمان کو قتل کر دے اور اس کے بعد خدا اور رسول کا نام لے کر اس کی نماز جنازہ ادا کرے۔ قرآن میں اس طرزِ عمل کی بابت کہا گیا کہ یہ حکم خداوندی کے ایک جز کو ماننا اور حکم خداوندی کے دوسرے جزو کا انکار کرنا ہے۔ کیوں کہ یہودی خدا کے اس حکم کو تو شوق سے لے رہے تھے کہ ملت یہود کے مظلوموں کی مدد کرو مگر اسی خدا کے اس حکم کو وہ اپنی زندگی سے خارج کئے ہوئے تھے کہ ان راستوں پر مت چلو جو ملت کے اندر باہمی ٹکراؤ پیدا کرتے ہیں اور نتیجہ "ملت کے افراد کو مظلوم بناتے ہیں ۔ قرآن میں اعلان کیا گیا کہ حکم الہی میں اس طرح کی تقسیم کسی کو اللہ کی نظر میں سزا کا مستحق بناتی ہے نہ کہ انعام کا۔ یہی صورت حال آج خود مسلمانوں میں جاری ہے اور نہ صرف کسی ایک ملک میں بلکہ تمام دنیا کی مسلم اقوام پر چسپاں ہوتی ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں حکومت کی سطح پر حلیفانہ گروہ بندیاں اور جماعتوں کی سطح پر متحدہ محاذ کی سیاست براہ راست طور پر وہی چیز ہے جس کی یہود کے سلسلے میں مذمت کی گئی ہے۔ آج ہر جگہ یہ حال ہے کہ مسلمان غیر مسلم قوموں یا غیر اسلامی طاقتوں کے ساتھ مل کر آپس میں ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ مسلم حکومتوں میں کوئی روسی کیمپ سے مل گیا ہے اور غیر روسی کیمپ میں شامل مسلم ملک پر چڑھائی کر رہا ہے اور کوئی امریکی کیمپ سے ملا ہوا ہے اور غیر امریکی کیمپ کے مسلم ملک کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے ہے مسلم جماعتوں کا یہ حال ہے کہ کوئی جماعت سوشلسٹ عنا صر سے مل کر غیر سوشلسٹ مسلم جماعتوں کے خلاف برسرپیکار ہے اور کوئی جماعت سیکولر عناصر سے مل کر غیر سیکولر کیمپ کی مسلم جماعتوں کے خلاف تخریبی کارروائیاں جاری کئے ہوئے ہے۔ یہی حال ہمارے ملک میں، خاص طور پر الیکشن کے مواقع پر ہوتا ہے۔ کچھ مسلمان حکمران سیاسی پارٹی سے مل کر اپوزیشن پارٹیوں اور ان سے اتحاد کرنے والے مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیتے ہیں اور کچھ مسلمان اپوزیشن پارٹیوں سے مل کر حکمران پارٹی اور اس سے وابستہ مسلمانوں کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس جاہلی جنگ کے نتیجہ میں جب مسلمانوں کی بربادی سامنے آتی ہے تو ان میں سے ہر ایک ملی جہاد کے لئے دوڑتا ہے، ہر ایک امدادی کام میں دوسرے سے آگے بڑھ جانا چاہتا ہے۔ ہمارے ملک میں ہونے والے فسادات کم از کم وقتی سبب کی حد تک، اکثر انھیں انتخابی محاذ آرائیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ مسلمان ان مواقع پر غیر مسلم پارٹیوں کے ساتھ مل کر دو جہتوں میں بٹ جاتے ہیں۔ ایک طرف ”اوس“ کا سیاسی محاذ ہوتا ہے اور دوسری طرف ”خزرج“ کا سیاسی محاذ۔ کچھ مسلمان ایک طرف کے محاذ میں شامل ہو جاتے ہیں اور کچھ دوسری طرف کے محاذ میں۔ ادھر پھر دونوں ایک دوسرے کو ہرانے اور نیچا دکھانے کے لئے اپنی ساری طاقت لگا دیتے ہیں۔ جب الکشن کا معرکہ ختم ہوتا ہے تو وہ صرف جیتنے والوں کے لئے ختم ہوتا ہے۔ ہارنے والوں کے لئے وہ دوبارہ نئی صورت میں شروع ہو جاتا ہے۔ اب ہارے ہوئے لیڈر جیتی ہوئی پارٹی کو بے اعتبار ثابت کرنے اور اپنی کھوئی ہوئی حیثیت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے میدان میں نکل آتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہارے ہوئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page