Urdu book · حل یہاں ہے

فسادات کا مسئلہ

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

لیڈر جو کارروائیاں کرتے ہیں انھیں میں سے ایک فرقہ وارانہ فساد بھی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھیے تو فرقہ وارانہ فسادات کے بعد مسلم قائدین کی طرف سے کیا جانے والا امدادی کام اور ملی جہاد براہ راست طور پر قرآن کے ان الفاظ کا مصداق ہے کہ افتؤ منون ببعض الکتاب وتکفرون ببعض (بقره ۸۵) یعنی خدا کے اس حکم کی تم کو پروا نہیں کہ تم اغیار کے ساتھ مل کر آپس میں ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی نہ کرو۔ اور جب جاہلانہ محاذ آرائی کے نتیجہ میں فساد درنما ہوتا ہے تو قرآن وحدیث کی تلاوت کرتے ہوئے اعانت مظلومین کے لئے نکل پڑتے ہو۔ یہ حکم خداوند کی تعمیل نہیں بلکہ سستی لیڈری ہے۔ اور خدا کا انعام کسی کو خدا کے حکم کی تعمیل پر ملتا ہے نہ کہ لیڈرانہ کارروائیوں پر۔ کرنے کا کام آج مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ فساد یا اغیار کی سازش نہیں ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ فدا اور سازش کو ناکام بنانے کے لئے واقعی طور پر جو کچھ کرنا چاہئے وہ کسی طرح ان کے ذہن کے خانہ میں نہیں بیٹھتا۔ زندگی کے مسائل کا حل خدا نے سنجیدہ غوروفکر اور حقیقت پسندانہ پروگرام میں رکھا ہے اور یہی وہ چیز ہے جس سے آج کے مسلمان آخری حد تک دور ہیں۔ وہ ہر دوسرے طریقہ پر بے پناہ سرمایہ اور طاقت خرچ کرنے کے لئے تیار ہیں مگر حقیقت پسندانہ طریقہ کو زیر عمل لانے کے لئے نہ ان کے پاس پیسہ ہے اور نہ وقت۔ آج ان کا حال وہی ہو رہا ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَاِنۡ تَرَوۡا کُلَّ اٰیَۃٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِہَا ۙ وَاِنۡ تَرَوۡا سَبِیۡلَ الرُّشۡدِ لَا يَتَّخِذُوۡهُ سَبِیۡلًا ۚ وَاِنۡ تَرَوۡا سَبِیۡلَ الۡغَيۡ تُ يَتَّخِذُوۡهُ سَبِیۡلًا ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَکَانُوۡا عَنۡہَا غٰفِلِیۡنَ ٭ وَالَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَۃِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ ؕ ہَلۡ يُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا کَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ (اعراف ۱۴۷ - ۱۴۶) اور اگر دیکھیں ساری نشانیاں یقین نہ کریں ان کو۔ اور اگر دیکھیں راہ سنوار کی وہ نہ ٹھہرائیں اس کو راہ اور اگر دیکھیں راہ الٹی اس کو ٹھہرائیں راہ۔ یہ اس واسطے کہ انھوں نے جھوٹ جانیں ہماری آیتیں اور ہو رہے ان سے بے خبر۔ اور جنھوں نے جھوٹ جانیں ہماری آیتیں اور آخرت کی ملاقات ضائع ہوئیں ان کی محنتیں، دہی بدلا پائیں گے جو کچھ عمل کرتے تھے (ترجمہ شاہ عبدالقادر) جب آدمی جھنجھلاہٹ اور جذباتیت کا شکار ہو جائے تو صرف سطحی باتیں اس کی سمجھ میں آتی ہیں، کوئی گہری بات اس کو اپیل نہیں کرتی۔ یہی آج مسلمانوں کا حال ہے۔ حقیقت پسندانہ طریق کار کے حق میں کتنے ہی کھلے کھلے دلائل دے دئے جائیں۔ مگر وہ ان کے ذہن کا جزو نہیں بنتے۔ وہ ایسے راستوں کی طرف تو تیزی سے دوڑ پڑنے ہیں جن کا آخری نتیجہ مزید تباہی کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ مگر ایسے راستے جو کامیابی کی طرف لے جانے والے ہوں، ان کو فلسفیانہ اور دور از کار کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ایک بے خبر انسان کی طرح وہ بھی اس دیوار سے ٹکراتے ہیں اور کبھی اس دیوار سے ۔ ان کی کوششیں اپنے نتیجہ کے اعتبار سے مسلسل بے قیمت ہوتی جا رہی ہیں۔ مگر ان کی آنکھ کسی طرح نہیں کھلتی۔ نئے الفاظ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page