Urdu book · حل یہاں ہے

بھیونڈی کی مثال

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

کی شان میں گستاخی کی۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ یہ الزام سراسر غلط تھا۔ بال ٹھاکرے نے ایسی بات سرے سے کہی نہیں۔ شیو سینا کا لیڈر ممبئی میں موجود تھا۔ مگر نہ مسلمانوں کا کوئی وفد فساد سے پہلے اس سے تحقیق کی غرض سے ملا۔ نہ کسی نے ٹیلیفون کرکے دریافت کیا۔ مسلمانوں کے وہ نام نہاد لیڈر جو فساد کے بعد خوب متحرک ہو جاتے ہیں وہ فساد سے پہلے اس کی تحقیق کے لئے بالکل متحرک نہیں ہوئے۔ جو ہوا وہ صرف یہ کہ ممبئی کی یہ خبر بنگلور کے ایک اردو اخبار میں شائع ہوئی جو سستی صحافت اور سنسنی خیزی کے لئے مشہور ہے۔ بس اس کا اردو اخبار میں چھپنا تھا کہ مسلمانوں نے اس کو بڑھا چڑھا کر نفرت کرنا شروع کر دیا اور چند دنوں کے اندر فضا اس قدر گرم ہو گئی جس کا دوسرا نتیجہ لازماً فساد تھا۔ بال ٹھاکرے کا انٹرویو فساد کے بعد دہلی کے انگریزی میگزین لنک (Link) کے نمائندے نے مسٹر بال ٹھاکرے سے ملاقات کی اور ان سے ایک انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ٹیپ کی مدد سے میگزین مذکور کی ۳ جون ۱۹۸۲ کے شمارہ میں شائع ہوا ہے۔ اس انٹرویو کا ضروری حصہ یہاں ایک صفحہ پر اصل الفاظ میں دیا جارہاہے۔ اس انٹرویو میں مسٹر بال ٹھاکرے نے مذکورہ دونوں الزامات کی صحت سے قطعی انکار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ سراسر غلط ہے کہ میں نے قرآن کو بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے اس سے بھی انکار کیا کہ انھوں نے پیغمبر اسلام کی شان میں توہین آمیز کلمات کہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ کھلا ہوا جھوٹ ہے۔ انھوں نے کہا کہ میری تقریر کا مکمل ٹیپ موجود ہے۔ کوئی بھی شخص اس کو سن سکتا ہے۔ مسٹر بال ٹھاکرے نے بتایا کہ انھوں نے پیغمبر اسلام کے خلاف کوئی بات نہیں کہی۔ اس کے برعکس میں نے پیغمبر صاحب کی تعریف کی اور ان کا ایک واقعہ بیان کیا۔ اس موقع پر مسٹر ٹھاکرے نے جو بات کہی وہ ان کے الفاظ میں یہ تھی میری تقریر کا ٹیپ موجود ہے ۔ اس میں ایک لفظ بھی پیغمبر اسلام کے خلاف نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ میں نے ان کی ایک مثال پیش کی تھی۔ وہ یہ کہ ایک بار پیغمبر صاحب اپنے شاگردوں کے ساتھ اپنی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایک ہندو وہاں آیا اور مسجد کی ایک دیوار پر تھوک دیا۔ شاگرد چلائے کہ ” مارو مارو “ مگر پیغمبر صاحب نے ان کو عنہ ہونے سے روکا۔ اس کے بعد انھوں نے ایک بالٹی پانی لے کر دھو دیا۔ ہندو یہ دیکھ کر شرمندہ ہوا ۔ پیغمبر صاحب نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ دیکھو ، یہ طریقہ ہے جس کے ذریعے سے ہمیں لوگوں کے اوپر فتح حاصل کرنا چاہئے ۔ مگر آج مسلمانوں میں اس قسم کی برد اشت کہاں ہے ؟ “

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page