Urdu book · حل یہاں ہے

بھیونڈی کی مثال

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

ان کو سبز جھنڈوں سے پاٹنے کے لئے ان کا اسلامی جوش ابھر آیا۔ جھنڈے کا جہاد یہاں تک پہنچا کہ پرجوش مسلمانوں نے ایک مقام پر جہاں پہلے سے شیو سینا کا جھنڈ لگا ہوا تھا وہاں سبز جھنڈ ہلرا دیا جوان کے خیال کے مطابق اسلامی جھنڈ تھا۔ اسی اشتعال کی فضا میں شیو سینا کے لیڈروں نے 16 مئی 1984ء کو ”بمبئی بندھ“ منایا۔ بمبئی بندھ نے اشتعال کو آخری حد تک پہنچا دیا اور 7 مئی 1984ء کو بھیونڈی میں فساد پھوٹ پڑا جو بالآخر تھانہ اور بمبئی وغیرہ کے علاقوں تک پھیل گیا (ضمیمه ٹائمس آف انڈیا ۳ جون ۱۹۸۲ اور دوسرے اخبارات) یہ فساد اتنا شدید تھا کہ اندازہ ہے کہ چند دنوں کے اندر ایک ارب روپیہ سے بھی زیادہ کا مالی نقصان ہو گیا ۔ جانی نقصان اس کے علاوہ ہے۔ وہ صرف اس وقت رکا جب کہ فوج نے آکر مداخلت کی۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس فساد کا نقصان زیادہ تر یک طرفہ تھا۔ حدیث میں مومن کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ وہ ایسا اقدام نہیں کرتا جس سے نمٹنے کی اس کے اندر طاقت نہ ہو اور بالآخر خود ذلیل ہونا پڑے (لیس للمومن ان يبذل نفسه ، ای يعرضها من البلاء مالا طاقة له به) مگر یہاں مسلمانوں نے ایسا اقدام کیا جس میں وہ چھڑی کے مقابلہ میں خربوزہ ثابت ہوئے۔ جو مسلمان اس قسم کے غیر مسلمانہ افعال میں مبتلا ہوں سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کی اسلامیت کو کس خانہ میں رکھا جائے ۔ فساد کا جائزہ اس فساد کا جائزہ لینے کے دو طریقے ہیں۔ ایک قومی طریقہ اور دوسرا اسلامی طریقہ۔ قومی طریقہ وہی ہے جس کا مظاہرہ مسلمانوں کے تمام اصاغر اکابر ایسے مواقع پر کرتے ہیں اور اس بار بھی کر رہے ہیں۔ اس حادثہ کے بعد مسلمانوں کی تمام زبانیں ایک ہی بات بول رہی ہیں اور ان کے تمام قلم ایک ہی بات لکھ رہے ہیں ۔ اور وہ یہ ہے شیو سینا کو (یا انتظامیہ کو) یک طرفہ طور پر تمام بربادیوں کا ذمہ دار قرار دینا۔ قومی طریقہ یہ نہیں دیکھتا کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا۔ وہ صرف اپنی قوم اور غیر قوم دیکھتا ہے۔ اور جب بھی اس قسم کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اپنی قوم کا ساتھ دیتے ہوئے دوسری قوم کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ وہی طریقہ ہے جس کو حدیث میں عصبیت کہا گیا ہے اور عصبیت سراسر باطل ہے۔ دوسرا طریقہ اسلام کا طریقہ ہے۔ اسلام کا طریقہ اصولی ہے نہ کہ قومی ۔ اسلامی طریقہ کو جب ہم اس واقعہ پر استعمال کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سی شکایت تھی جس پر برہم ہو کر مسلمانوں نے ہنگامہ کیا اور شیو سینا کے لیڈر کی مورت بنا کر اس کو پرانے چپلوں کا ہار پہنایا ۔ وہ شکایت مسلمانوں کے بیان کے مطابق ، یہ تھی کہ شیو سینا کے لیڈر نے قرآن کو بند کرنے کا مطالبہ کیا اور پیغمبر اسلام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page