Urdu book · حل یہاں ہے

بھیونڈی کی مثال

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

شیو سینا کے لیڈر نے جو واقعہ بیاں کیا، وہ اصلا ایک صحیح واقعہ ہے۔ البتہ اس کو بیان کرنے میں ان سے کچھ جزئی غلطیاں ہو گئی ہیں۔ ان غلطیوں کو گستاخی نہیں کہا جا سکتا۔ ہم زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتے ہیں کہ واقعہ کی صحیح روایت بتاکر ان کی تصحیح کر دیں۔ ذیل میں ہم واقعہ کی اصل روایت درج کرتے ہیں۔ عن ابی ھریرۃ قال : بال اعرابی فی المسجد فقام الناس الیہ لیقعوافنیہ ۔ فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: دعوۃ واریقوا علی بولہ سجلا من ماء او ذنوبا من ماء فانما بعثم میسرین و لم تبعثوا معسرین (رواہ البخاری فی کتاب الوضوء) امام بخاری حضرت ابو ہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نے مسجد نبوی میں پیشاب کر دیا۔ لوگ یہ دیکھ کر اس کی طرف دوڑ پڑے۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو اور اس کے پیشاب پر پانی کا ایک ڈول (یا چند ڈول) ڈال دو۔ کیوں کہ تم آسانی پیدا کرنے کے لئے بھیجے گئے ہو، تم مشکل پیدا کرنے کے لئے نہیں بھیجے گئے۔ مسٹر بال ٹھاکرے کا انٹرویو پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی بات کہنے میں منافقت کا طریقہ نہیں اختیار کیا ہے بلکہ اپنا خیال صاف صاف بیان کر دیا ہے۔ ان کو یہ شکایت ہے کہ مسلمان ان کے جلوس پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس کی وجہ سے شیو سینتی کا جلوس چودہ سال تک قانونا بند رہا۔ اگر مسلمانوں کے کچھ جذ بات ہیں تو کیا ہمارے جذبات نہیں ہیں۔ کیا ہم انسان نہیں ہیں۔ ہم اپنے مذہب پر یا اپنی تاریخ پر پولیس تو مسلمانوں کو اعتراض کرنے کا کیا حق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مسلمانوں کے دشمن نہیں ہیں مگر مسلمانوں نے جب پاکستان کے نام سے اپنا بٹوارہ کر لیا تو اس کے عین منطقی نتیجہ کے مطابق ہندوستان ہندو ملک ہے۔ جو کوئی یہاں رہنا چاہے وہ بھائی بن کر یہاں رہ سکتا ہے۔ ہم کسی پر کوئی پابندی لگانا نہیں چاہتے۔ میں اپنے پیروؤں سے یہ نہیں کہتا کہ وہ اس فرقہ کو ماریں یا اس سے نفرت کریں۔ مگر مسلمانوں کا جو طریقہ ہے اس سے نفرت پیدا ہوتی ہے۔ فرقہ وارانہ فساد پسند ہونے کا طریقہ یہ ہے کہ مسلمان ہمارے خلاف حملہ کرنا چھوڑ دیں اور پھر ان کے خلاف کارروائی نہیں ہو گی۔ ہم حملہ نہیں کرتے ہم صرف بدلہ لیتے ہیں۔ اگر وہ حملہ کریں تو ہم ضرور بدلہ لیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ شیو سینا کے لیڈر مسٹر بال ٹھاکرے نے خود ہمارے رسول کی ایک حدیث یاد دلاکر ہم کو ہر قسم کے فساد پر فتح حاصل کرنے کا قیمتی راز بتایاتھا۔ مگر ذہنی بگاڑ کا یہ نتیجہ ہوا کہ ہم نے اس کو بھی اپنے خلاف ایک نیا شدید فساد پیدا کرنے کا ذریعہ بنالیا۔ کیسا عجیب ہے یہ طریقہ جس کے مطابق ہم دنیا میں رہنا چاہتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page