بھیونڈی کی مثال
Urdu book, p. 61
By Maulana Wahiduddin Khan
فساد کی جڑ مسلمان اس قسم کی نادانیاں کیوں کرتے ہیں ۔ اس کی وجہ ان کی فخر کی نفسیات ہے۔ مسلمانوں پر جب بھی زوال کا دور آتا ہے تو ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ان کے اندر فخر کی نفسیات پیدا ہوجاتی ہے۔ امت کا زوال در اصل نام ہی اس بات کا ہے کہ دین ان کے یہاں ذمہ داری کی سطح پر نہ رہے بلکہ فخر کی سطح پر پہنچ جائے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ خدائے رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرمی اور عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے الجھتے ہیں تو وہ ان کو سلام کر کے الگ ہوجاتے ہیں۔ (الفرقان ۶۳) مگر امت پر جب گراوٹ کا دور آتا ہے تو اس کے اندر بالکل برعکس مزاج پیدا ہو جاتا ہے۔ اب اس کے افراد کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ دین کی تعلیمات کا چرچا اپنی بڑائی جتانے کے لئے کرتے ہیں نہ کہ حقیقتاً عمل کرنے کے لئے۔ وہ سر اٹھا کر کہیں گے کہ صرف ہمارا دین ایک ایسا دین ہے جس میں خالص توحید پائی جاتی ہے۔ مگر عین اسی وقت اپنی زندہ اور مردہ شخصیتوں کی پرستش میں مبتلا ہوں گے ۔ وہ اس بات پر فخر کریں گے کہ اسلام میں کامل مساوات پائی جاتی ہے مگر اپنے معاملات میں سراسر غیر مساوی سلوک جاری رکھتی ہے۔ وہ جوش و خروش کے ساتھ یہ اعلان کریں گے کہ ہمارا دین حکم دیتا ہے کہ تم مفتاح للخير، مغلاق للشر (بھلائی کا دروازہ کھولنے والے اور برائی کا دروازہ بند کرنے والے) بنو مگر جب خدا کا کوئی بندہ اس حکم کو خود ان کی ذات پر استعمال کرتے ہوئے ان کے کسی غلط رویہ پر تنقید کر دے تو وہ ہمیشہ کے لئے اس کے دشمن بن جائیں گے۔ وہ اپنے پیغمبر کے اعلیٰ کردار کو بیان کرتے ہوئے پر فخر طور پر کہیں گے کہ وہ اشتعال کے باوجود مشتعل نہیں ہوئے مگر خود ہر خلاف مزاج بات پر بھڑک اٹھیں گے اور کہیں گے کہ جب اشتعال پیدا کیا جائے تو ہم کیسے نہ مشتعل ہوں ۔ دوسرے ادیان کو کمتر ثابت کرنے کے وقت وہ زور و شور کے ساتھ کہیں گے کہ ہمارے رسول پر پیغمبری ختم ہوگئی۔ مگر اپنے پیغمبر کی تعلیمات کو دوسری قوموں تک پہنچانے سے وہ اس قدر غافل ہوں گے جیسے کہ اس کام کے لئے انھیں کسی نئے رسول کی آمد کا انتظار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی نفسیات ہر قسم کے فساد کی اصل جڑ ہے۔ جب دین فخر کا عنوان بن جائے تو اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر وہ مزاج پیدا ہوتا ہے جس کو جھوٹا احساس برتری سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ ایسے لوگ اپنے آپ کو ہر حال میں صحیح سمجھنے لگتے ہیں اور دوسرے کو ہر حال میں غلط۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ ان کا رویہ سراسر غیر حقیقت پسندانہ رو یہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ دوسروں کی غلطیوں کا خوب چرچا کریں گے مگر خود اپنی غلطی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader