قول میں کچھ عمل میں کچھ
Urdu book, p. 64
By Maulana Wahiduddin Khan
زیادہ اختلاف اور انتشار میں مبتلا ہیں ، دنیا کی کوئی قوم اتنے زیادہ اختلاف اور انتشار میں مبتلا نہیں مسلمانوں کی حالت دیکھیے تو ایسا معلوم ہوتا ہے گویا ان کے درمیان کوئی مشترک چیز موجود ہی نہیں ۔ جیسے کوئی واحد بنیاد ہی نہیں جس پر ان کو متحد کیا جاسکے ۔ ایسی حالت میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام کی وحدت کا لفظ آج مسلمان صرف دوسری قوموں کے مقابلہ میں اپنی برتری ظاہر کرنے کے لئے بولتے ہیں ۔ اسلام اب ان کے لئے صرف فخر کرنے کی چیز ہے نہ کہ عمل کرنے کی چیز ۔ یہی حال آج مسلمانوں کے تمام قومی اور اجتماعی معاملات کا ہے۔ اس کی ایک واضح مثال اسلام کی وہ تعلیم ہے جو معاہدہ حدیبیہ کی صورت میں پائی جاتی ہے ۔ تمام قائدین اور مفکرین کا یہ حال ہے کہ جب وہ رسول کی سیرت یا قرآن کی تعلیم پر بولتے ہیں تو وہ معاہدہ حدیبیہ کی صابرانہ پالیسی کو زور و شور کے ساتھ بیان کرتے ہیں ۔ وہ فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ مکہ کی فتح صلح کے ذریعہ حاصل کی گئی نہ کہ جنگ کے ذریعہ ۔ مگر دوسری اقوام سے موجودہ مسلمانوں کے جو جھگڑے ہیں ، ان میں وہ حدیبیہ کی روح کے سراسر خلاف عمل کرتے ہیں ۔ ہر فقا ند معاہدہ حدیبیہ کی شاندار تفسیر بیان کرتا ہے۔ دوسری طرف ان قائدین اور مفکرین نے موجودہ زمانہ میں سب سے زیادہ جس اسلامی تعلیم کو نظر انداز کیا ہے وہ وہی ہے جس کو معاہدہ حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ بطور مثال یہاں ایک مشہور مسلم اخبار کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے اس انگریزی اخبار نے اپنی ۱۴ جولائی ۱۹۸۴ء کی اشاعت میں معاہدہ حدیبیہ پر ایک طویل مضمون شائع کیا ہے۔ اس مضمون میں تفصیل کے ساتھ دکھایا گیا ہے کہ معاہدہ حدیبیہ کے ذریعہ عرب کی فتح کا دروازہ کھلا۔ مضمون کے مطابق، معاہدہ حدیبیہ کا خلاصہ یہ تھا کہ مخالف فریق کی ہر قسم کی اشتعال انگیزیوں کے باوجود یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو رد عمل سے بچایا جائے، اور ٹکراؤ کو نظر انداز (Avoid) کرتے ہوئے اپنی مثبت تعمیر کے ذریعہ کامیابی حاصل کی جائے۔ یہاں اخبار کے مذکورہ مضمون کا ایک اقتباس نقل کیا جاتا ہے۔ حدیبیہ کے واقعات بیان کرتے ہوئے مضمون نگار لکھتے ہیں :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader