Urdu book · حل یہاں ہے

قول میں کچھ عمل میں کچھ

Urdu book, p. 65

By Maulana Wahiduddin Khan

جب بات چیت ہورہی تھی تو قریش مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو اشتعال کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے تاکہ دونوں کے درمیان لڑائی شروع ہو جاتے۔ مگر اصحاب رسول نے شروع سے آخر تک زبردست صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا جیسا کہ ان کے فائد نے انھیں ہدایت کی تھی۔ انھوں نے ان کی کسی بھی چال میں پھنسنے سے انکار کر دیا۔ ایک بار تقریباً ۵۰ آدمیوں کا ایک گروہ چپکے سے مسلمانوں کے پڑاؤ کے پاس رات کے وقت آگیا اور پتھر مارنا شروع کیا۔ رسول کے اصحاب جن کو پہلے سے ہی چو کنا کر دیا گیا تھا کہ وہ اس قسم کی اشتعال انگیزیوں پر بر انگیختہ نہ ہوں ، وہ بالکل ٹھنڈے بنے رہے اور صرف یہ کیا کہ ان سب کو پکڑ کر رسول اللہ کے سامنے پیش کر دیا جنھوں نے سادہ طور پر بس ان کورہا کر دیا (صفحہ ۱۹) معاہدہ حدیبیہ کی اس اسپرٹ کا مذکورہ مضمون میں تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ اور بتایا گیا ہے کہ اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہونے کی یہی حکیمانہ پالیسی تھی جس کے ذریعے عرب میں بے مثال کامیابی حاصل کی گئی۔ مگر یہی اخبار ہے جو ملک میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مسائل کے ذیل میں اس کے بالکل برعکس ذہن کی نمائندگی کرتا ہے ۔ وہ ہمیشہ اشتعال انگیز واقعات پر مسلمانوں کے مشتعل ہو جانے کی حمایت کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اخبار مذکور کی اشاعت ۹ جون ۱۹۸۲ میں بھیونڈی اور بمبئی کے علاقہ میں ہونے والے فساد پر تفصیلی تبصرہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں پر بھنی کے اس واقعہ کا ذکر ہے کہ شیو سینا کے لیڈر مسٹر بال ٹھاکرے کے پیغمبری شان میں گستاخانہ الفاظ بولنے پر ایک مسلمان ایم ایل اے مسٹر اے آر خان نے غصہ میں بھرا ہوا جلوس نکالا اور مسلمانوں نے مسٹر بال ٹھاکرے کی صورت بنا کر اس کو پرانے چپلوں کا ہار پہنایا۔ اخبار مذکور یہ تسلیم کرتا ہے کہ یہ احتجاج کا نہایت نازیبا طریقہ تھا۔ مگر اگلے ہی فقرہ میں یہ کہہ کر اس کا جواز فراہم کر دیتا ہے کہ ــــــ مگر ایک شخص کو یہ کہنے سے باز نہیں رکھا جا سکتا کہ اس سلسلہ میں ابتدائی اشتعال شیو سینا کے لیڈر کی طرف سے فراہم کیا گیا تھا: مذکورہ دونوں بیانات میں واضح طور پر تضاد ہے۔ اول الذکر بیان بتاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی سنت یہ تھی کہ حریف مخالفت خواہ کتنی ہی اشتعال انگیزی کرے ہم اس پر برا فروختہ نہ ہوں ، بلکہ اس کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے مثبت طرز عمل پر قائم رہیں۔ اس کے برعکس دوسرا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page