بلند نظری
Urdu book, p. 74
By Maulana Wahiduddin Khan
سعد بن ابی وقاص مقیم تھے ۔ وہاں پہونچ کر حضرت سعد کو ساری روداد سنائی گئی اور مٹی کی ٹوکری ان کے سامنے رکھ دی گئی ۔ حضرت سعد اس واقعہ پر ذرا بھی برہم نہیں ہوئے ۔ انہوں نے اس سے اچھا فال لیا اور فرمایا : ابشروا فقد والله اعطانا الله خوش ہو جاؤ کیوں کہ خدا کی قسم اللہ نے ہمیں ان اقالید ملكهم کے اقتدار کی کنجیاں دے دیں ۔ یہی وہ بلند نظری تھی جس نے عربوں کو اس قابل بنایا کہ اپنے وقت کے انتہائی ناقابل لحاظ گروہ ہونے کے باوجود وہ اس زمانہ کی عظیم ترین سلطنتوں کے فاتح بنے ۔ وہ لوگ جن کو تاریخ کا معمول سمجھ لیا گیا تھا انہوں نے اپنے عمل سے ایک نئی تاریخ پیدا کی ۔ دنیا کا نظام کچھ اس طرح بنا ہے کہ یہاں ہر دن کے ساتھ رات ہوتی ہے اور ہر پھول کے ساتھ کانٹا ۔ کوئی بھی شخص موجودہ دنیا میں ناخوش گواریوں سے خالی نہیں ہو سکتا ۔ اس لیے موجودہ دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کا راز صرف یہ ہے کہ آدمی ناموافق حالات کے اندر موافق پہلو دریافت کر سکے ۔ وہ ناخوش گوار واقعات سے یقین اور حوصلہ کی غذا لے ۔ اس کے سر پر ذلت کی ٹوکری رکھے جاتے مگر اس کو نظر آئے کہ رکھنے والوں نے اس کے سر پر عزت کا تاج رکھ دیا ہے۔ مشہور ماہرِ نفسیات الفرڈ ایڈلر (۱۹۳۷ء - ۱۸۷۰ء) کی پوری عمر نفسیاتِ انسانی کے مطالعہ و تحقیق میں گزری ۔ عمر بھر کے مطالعہ کے بعد اس نے اپنی اس دریافت کا اعلان کیا کہ انسان کی خصوصیات میں سے ایک انتہائی حیرت ناک خصوصیت اس کی یہ طاقت ہے کہ وہ اپنے نہیں کو ہے میں تبدیل کر سکے : Their power to turn a minus into a plus. یہ نادر خصوصیت ہر انسان کے اندر پیدائشی طور پر موجود ہے ۔ وہی افراد اس دنیا میں بڑی کامیابی حاصل کرتے ہیں جو اپنی اس صلاحیت کو استعمال کریں ۔ اور جب اس صلاحیت کو استعمال کرنے والا ایک گروہ پیدا ہو جائے تو وہی تاریخ ساز گروہ ہوتا ہے ۔ وہ انسانی تاریخ میں ایک دور کو ختم کر کے دوسرا دور لے آتا ہے ۔ صحابہ کرام اس فطری صلاحیت کو استعمال کرنے میں ممتاز مقام رکھتے تھے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے عمل سے ممتاز ترین تاریخ پیدا کی ۔ موجودہ حالات سے مسلمانوں نے ابھی تک صرف منفی سبق لیا ہے چنانچہ وہ احساس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader