Urdu book · حل یہاں ہے

داعی اور مدعو

Urdu book, p. 78

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ صورت حال آج نہ صرف ہندوستان کے مسلمانوں پر بلکہ تمام دنیا کے مسلمانوں پر صادق آتی ہے۔ آج ساری دنیا کے مسلمان دوسری قوموں کے ظلم اور لوٹ کا نشانہ بن رہے ہیں۔ یہ واقعہ کہیں براہ راست ہو رہا ہے اور کہیں بالواسطہ۔ کہیں ان کے دشمن ان کو خود اپنی طاقت کا مزہ چکھا رہے ہیں۔ اور کہیں انھوں نے مسلمانوں کو دو طبقوں میں بانٹ دیا ہے۔ اور پھر ایک کے مقابلہ میں دوسرے کو مدد دے کر دونوں کو ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان پر وہ وقت آ گیا ہے جس کی پیشین گوئی ابو داؤد کی ایک روایت ان الفاظ میں کی گئی تھی : عن ثوبان قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ وقت وسلم یوشک الامم ان تداعی علیکم کما آنے والا ہے کہ قومیں تمھارے اوپر ٹوٹ پڑیں جس طرح تداعی الاكلة الى قصعتها۔ فقال قائل ومن کھانے والے کھانے کے پیالہ پر ٹوٹتے ہیں۔ کسی نے کہا قلة نحن يومئذ۔ قال انتم كثير ولكنكم کیا اس وقت ہم تھوڑے ہوں گے۔ آپ نے فرمایا کہ غثاء كغثاء السيل۔ ولينزعن الله من صدور نہیں ۔ تم بہت زیادہ ہوگے مگر اس وقت تم سیلاب کے عدوكم المهابة منكم وليقذن في قلوبكم جھاگ کی مانند ہوگے۔ اللہ تمھارے دشمنوں کے سینہ الوھن۔ قال قائل یا رسول الله وما الوھن سے تمھارا رعب نکال دے گا اور تمھارے دلوں میں وہن قال حب الدنیا وكراھية الموت ، (كمزوری) ڈال دے گا۔ پوچھنے والے نے پوچھا کہ وہن (مشكوة المصابيح ، باب تغير الناس) کیا ہے۔ آپ نے فرمایا دنیا کی محبت اور موت کو ناپسند کرنا۔ دعوتی غفلت موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا دوسری قوموں کا تختۂ مشق بننا اتنا زیادہ ثابت شدہ ہے کہ اس کے بارے میں دورائے ممکن نہیں۔ البتہ اس کے سبب کے بارہ میں مسلمانوں کی دو رائیں ہیں۔ ان کی بڑی تعداد ابھی تک اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ یہ سب کچھ صرف دوسری قوموں کا ظلم ہے۔ چنانچہ ان کے زبان و قلم ظالموں کے خلاف احتجاج اور شکایت میں مشغول ہیں۔ مگر اس قسم کی توجیہہ قرآن کی تردید کے ہم معنی ہے۔ قرآن کے نظریۂ تاریخ کو رد کرنے کے بعد ہی ایسی توجیہہ کو قبول کیا جاسکتا ہے۔ قرآن کو مانتے ہوئے اس کو قبول کرنا کسی طرح ممکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ صورت حال دیگر قوموں کا ظلم نہیں، وہ دیگر قوموں کے ہاتھوں خدا کی سزا ہے۔ یہ سزا (یا تنبیہہ) اس وقت تک جاری رہے گی جب تک مسلمان اپنے اصل منصبی فریضہ (دعوت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page