Urdu book · حل یہاں ہے

داعی اور مدعو

Urdu book, p. 77

By Maulana Wahiduddin Khan

تد بیران۔کے مسائل کو حل کرنے والی ثابت نہیں ہو سکتیں۔ دعوت سے حفاظت خدا نے جو رسول بھیجے سب اس لئے بھیجے کہ وہ لوگوں کو خدا کے تخلیقی منصوبہ سے اچھی طرح آگاہ کر دیں۔ تاکہ قیامت میں کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ رہے کہ ہم کو اس کی خبر نہ تھی (النساء ۱۶۵) یہی دعوت الی اللہ یا شہادت حق پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن تھا۔ اور ختم نبوت کے بعد یہی وہ خاص مشن ہے جس کے لئے امت محمدی قیامت تک کے لئے مامور ہے (الحج ۷۸) کسی بھی شخص یا گروہ کی جو اصل حیثیت ہو وہی وہ چیز ہے جس سے اس کی قسمت وابستہ ہوتی ہے۔ قرآن میں واضح لفظوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اور آپ کی تبعیت میں آپ کی امت سے) کہا گیا ہے کہ لوگوں کے مقابلہ میں تمھاری حفاظت کا سارا معاملہ اسی عمل دعوت کی ادائگی سے وابستہ ہے: يا ايها الرسول بلغ ما انزل اليك من اے رسول، جو تمھارے رب کی طرف سے اترا ہے اسے ربك وان لم تفعل فما بلغت رسالته پہنچادو اور گرم تم نے ایسا نہ کیا تو تم نے خدا کے پیام کو نہیں واللہ یعصمک من الناس ( المائدۃ ، ۶۷) پہنچایا۔ اور واللہ تم کو لوگوں سے بچائے گا۔ حافظ ابن کثیر نے اس آیت کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے : ای بلغ انت رسالتی وانا حافظك وناصرك ومؤيدك علی اعدائک ومظفرک علیہم فلا تخف ولا تحزن فلن يصل احد منهم الیک بسؤ یوزيك ۔ (یعنی تم میرے پیغام کو پہنچا و اور میں تمھارا محافظ ہوں اور تمھارا مدد کرنے والا ہوں اور تمھارے دشمنوں کے مقابلہ میں تمھاری تائید کرنے والا ہوں اور ان پر فتح دلانے والا ہوں۔ تم نہ ڈرو اور نہ اندیشہ کرو۔ ان میں سے کوئی شخص تم تک نہیں پہنچ سکتا کہ وہ تم کو تکلیف دے۔ اس آیت کے مطابق اللہ کے نزدیک اہلِ ایمان کی قیمت صرف اس وقت ہے جب کہ وہ دنیا کی قوموں تک خدا کا بے آمیز پیغام پہنچانے کا کام کر رہے ہوں۔ اگر وہ ایسا کریں تو اللہ کی طرف سے اہلِ ایمان کے لئے یہ وعدہ ہے کہ وہ ان کو مخالفین کے ظلم و ستم کا شکار نہیں ہونے دے گا۔ تبلیغ ما انزل اللہ کا کام ان کے لئے عصمت من الناس کی ضمانت بن جائے گا۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ دعوت حق کو چھوڑنے کے بعد وہ خدا کی نظر میں بے قیمت ہو جائیں گے اہلِ ایمان اگر کسی وقت دیگر اقوام کے ظلم و ستم کا شکار ہونے لگیں تو اس کی براہِ راست وجہ یہ ہوگی کہ خدا کی حفاظت ان سے اٹھ گئی ہے۔ اور حفاظت کے اٹھنے کا سبب یقینی طور پر یہ ہوگا کہ انھوں نے دعوت الی اللہ کے کام کو چھوڑ دیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page