یک طرفہ کارروائی کی ضرورت
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
تو موجودہ تدبیروں سے آئندہ پچاس سال تک بھی فسادات بند نہ ہوں گے جس طرح پچھلے پچاس سال میں اس قسم کی تدبیروں کے باوجود فسادات بند نہیں ہوئے ہیں۔ ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات پر جب کوئی مسلمان بات کرتا ہے تو وہ ہمیشہ ایک ہی چیز کی کوشش کرتا ہے__ خالص قانونی اور منطقی جائزہ لے کر یہ دیکھنا کہ کون فریق حق پر ہے اور کون فریق ناحق پر۔ یہ طریقہ سراسر غلط ہے۔ کیوں کہ بعض امور وہ ہوتے ہیں جن میں حق اور ناحق نہیں دیکھا جاتا بلکہ صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کا واقعی حل کیا ہے۔ حدیبیہ کے مقام پر جب مسلمانوں اور قریش کے درمیان صلح کا معاہدہ لکھا جارہا تھا تو آپ نے اس کا مضمون املا کراتے ہوئے کاتب سے کہا : اكتب هذا اما قاضی عليه محمد رسول الله ۔۔۔ لکھو کہ یہ وہ ہے جو محمد اللہ کے رسول کے نے فیصلہ کیا، قریش کے نمائندہ (سهیل بن عمرو) نے کہا کہ ہر گز نہیں ۔ آپ صرف محمد بن عبد اللہ لکھئے۔ کیوں کہ ہم آپ کو اللہ کا رسول نہیں مانتے۔ آپ نے فوراً کاتب سے کہا کہ اکتب محمد بن عبد اللہ (محمد بن عبد اللہ لکھو)۔ اگر آپ اس کو حق اور ناحق کا معاملہ بناتے تو کبھی اس مطالبہ کو ماننے پر راضی نہ ہوتے خواہ سارے مسلمان وہیں کٹ کر مر جائیں۔ مگر آپ نے اس کو حق اور ناحق کا مسئلہ نہیں بنایا بلکہ صرف اس کے عملی پہلو کو دیکھا۔ چوں کہ اس وقت عملی طور پر اس کے سوا کوئی حل نہیں تھا اس لئے رسول اللہ کا لفظ چھوڑ کر صرف محمد بن عبد اللہ کا لفظ لکھنے پر راضی ہو گئے۔ فسادات کا مسئلہ بھی لیتینی طور پر اسی قسم کے مسائل میں سے ہے۔ مذکورہ بالا سنت رسول کے مطابق ہمارے اوپر لازم ہے کہ اس میں حق اور ناحق کی بحث نہ کریں بلکہ صرف یہ دیکھیں کہ اس کا عملی حل کیا ہے۔ اور عملی طور پر اس کا جو ممکن حل ہے اس کو اختیار کر لیں۔ اگر مسلمان اس معاملے میں حق اور ناحق کی بحث نہ چھوڑیں تو یقینی طور پر یہ ان کی نفسانیت کا ثبوت ہوگا نہ کہ حق پرستی کا۔ کیوں کہ حق پرستی خدا کے رسول کی سنت کو اختیار کرنے میں ہے نہ کہ کسی دوسرے طریقہ کو اختیار کرنے میں۔ مسلمان موجودہ زمانہ میں ہر جگہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑکر برباد ہوتے رہے ہیں۔ ایسا کر کے وہ سمجھتے ہیں کہ وہ جہاد کر رہے ہیں۔ حالانکہ اس قسم کے واقعات صرف یہ ثابت کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے سامنے کوئی بڑا مقصد نہیں ۔ جس کے سامنے بڑا مقصد ہو وہ ہمیشہ چھوٹی باتوں کو نظر انداز کر کرتا ہے۔ مسلمانوں نے چونکہ مقصدیت کھودی ہے اس لئے وہ برداشت بھی کھوئے ہوئے ہیں۔ بے مقصد گروہ بن جانے کی بنا پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader