Urdu book · حل یہاں ہے

داعی اور مدعو

Urdu book, p. 80

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ داعی کے اندر اپنے مدعو کے لئے وہی احساسات پیدا ہوتے ہیں جو ایک تاجر کے اندر اپنے خریدار کے لئے پیدا ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ تاجر کی نفسیات تجارتی مفاد کے لئے ہوتی ہے اور داعی کی نفسیات دعوتی مفاد کے لئے۔ داعی اگر واقعۂ داعی ہو، وہ قومی وکیل یا مذہبی مناظر نہ ہو تو بالکل فطری طور پر اس کے اندر اپنے مدعو کے لئے محبت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے اندر یہ مزاج پرورش پاتا ہے کہ وہ اس سے حکمت اور صبر کے ساتھ معاملہ کرے ویسے ہی جیسے ایک دانش مند تاجر اپنے گاہک سے معاملہ کرنے میں ضروری سمجھتا ہے کہ وہ کسی حال میں حکمت اور صبر کا طریقہ نہ چھوڑے۔ تاجر کا رویہ اپنے گاہک کے حق میں گاہک کے رویہ کے ردعمل کے طور پر نہیں بنتا۔ بلکہ خود اپنے سوچے سمجھے فکر کے تحت بنتا ہے۔ وہ یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو حسن سلوک کا پابند بناتا ہے، خواہ گاہک اس کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرے یا نہ کرے ۔ ٹھیک یہی طریقہ داعی کا بھی اپنے مدعو کے حق میں ہوتا ہے۔ مسلمان اگر دوسری قوموں کو اپنا مدعو سمجھیں تو اس کے بالکل لازمی نتیجہ کے طور پر یہ ہوگا کہ وہ اپنے آپ کو دوسری قوموں کے حق میں ’’ ناصح اور امین‘‘ سمجھیں گے۔ ان کے دل میں دوسری قوموں کے لئے خیر خواہی کے جذبات پیدا ہوں گے۔ وہ ان کی طرف سے پیش آنے والی تلخیوں کو بخوشی برداشت کریں گے۔ وہ یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو اس کا ذمہ دار سمجھیں گے کہ ان کی اشتعال انگیز حرکات کو نظر انداز کریں تاکہ دعوت کی فضا برباد نہ ہونے پائے۔ دوسری اقوام کو اپنا مدعو سمجھنے کے بعد ان کی نسبت سے مسلمانوں کے اندر وہی نفسیات پیدا ہوگی جو ایک دانش مند تاجر کے اندر اپنے خریدار کے لئے پیدا ہوتی ہے۔ مسلمان ان کے حق میں دعائیں کریں گے۔ وہ ان کی تالیف قلب کے لئے کوشاں ہوں گے۔ وہ ان کی ہدایت کے حریص بن جائیں گے جس طرح پیغمبر اپنے مدعو کے ایمان کے لئے حریص تھا۔ ان کے اندر اشتعال کے بجائے برداشت کا مادہ پیدا ہوگا ۔ اس نفسیات اور کردار کا ثبوت دینے کے بعد ان کے حق میں وہ شان دار نتیجہ برآمد ہو گا جس کی قرآن میں خوش خبری دی گئی ہے۔ دشمن دوست بن جاتا ہے قرآن کی سورہ نمبر ۴۱ (حم سجدہ) کی تین آیتیں اس معاملہ میں رہنما حیثیت رکھتی ہیں۔ ان آیتوں کا ترجمہ یہ ہے : اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں ہوسکتی۔ جواب وہ دو جو اس سے بہتر ہو۔ پھر کیا یک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page