داعی اور مدعو
Urdu book, p. 81
By Maulana Wahiduddin Khan
تجھ میں اور جس میں دشمنی تھی وہ ایسا ہو جائے گا جیسے کوئی قریبی دوست۔ اور یہ بات انہیں کو ملتی ہے جو صبر والے ہیں اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جس کی بڑی قسمت ہے۔ اور اگر تجھ کو شیطان کی طرف سے کچھ وسوسہ آئے تو اللہ کی پناہ پکڑو، وہ بے شک وہ سننے والا، جاننے والا ہے (حم سجدہ ۳۶ - ۳۷) ان آیات کی تشریح میں دو تفسیروں کا اقتباس یہاں نقل کیا جاتا ہے: (ولا تستوى الحسنة ولا السيئة) اى فرق عظیم بین ھذہ و ھذہ (ا دفع بالتي هي احسن) ای من اساء اليك فادفعہ عنك بالحسان الیہ كما قال عمر رضي الله عنہ : ما عاقبت من عصى الله فيك بمثل ان تطيع الله فيه ( فاذا الذي بينك و بينه عداوة كانہ ولى حميم) وهو الصدیق ای اذا احسنت الی من اساء اليك قادتہ الحسنۃ الیہ الی مصافاتك ومحبتك والحنو عليك حتى يصير كانہ ولى حميم) اى قريب اليك من الشفقة والاحسان اليك ( وما يلقاها الا الذين صبروا) ای وما يقبل هذه الوصية ويجعل بها الا من صبر على ذالك فانه يشق على النفوس ۔ وما يلقاها الا ذو حظ عظیم) ای ذو نصيب وافر من السعادة فى الدنيا والاخرة ۔ قال ابن عباس في تفسير هذ ه الآية : ا ھى اللہ المومنين بالصبر عند الغضب والحلم عند الجهل والعفو عند الاساءۃ ۔ فاذا فعلوا ذالك عصمهم الله من الشيطان وخضع لهم عدوھم كانہ ولی حمیم ۔ اور حسنہ اور سیئہ برابر نہیں ہو سکتے ، یعنی اس کے اور اُس کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ احسن طریقہ سے دفع کرو ، یعنی جو شخص تمہارے ساتھ برا سلوک کرے اس کے ساتھ اچھا سلوک کر کے تم اس کا جواب دو ، جیسا کہ حضرت عمر فاروق نے فرمایا : جو شخص تمہارے ساتھ خدا کی نافرمانی کرے اس کا سب سے اچھا بدلہ یہ ہے کہ تم اس کے ساتھ اللہ کی اطاعت کرو ۔ پھر تمہارے ساتھ جس کی عداوت ہے وہ قریبی دوست کی طرح ہو جائے گا ، یعنی جب تم ایسا کرو گے کہ بر سلوک کرنے والے کے ساتھ تم اچھا سلوک کرو گے تو تمہاری اچھائی اس کے اندر محبت اور ہمدردی کا جذبہ پیدا کرے گی۔ یہاں تک کہ وہ تمہارادوست اور تمھارا مہربان بن جائے گا۔ اور اس کو صرف نصیبہ والے پاتے ہیں ، یعنی جو دنیا اور آخرت میں بڑے خوش قسمت ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن عباس نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ اللہ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ غصہ کے وقت صبر کریں ، جہالت کے وقت برداشت کریں ، اور برائی کے وقت معاف کر دیں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ ان کو شیطان سے بچالے گا اور ان کے دشمن کو پست کر کے ان کا دوست بنا دے گا۔ مختصر تفسیر ابن کثیر جلد ۳ ، صفحہ ۲۶ قال ابن عباس : ادفع بحلمك جهل من يجهل عبداللہ ابن عباس نے فرمایا کہ جو شخص تمہارے ساتھ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader