Urdu book · حل یہاں ہے

داعی اور مدعو

Urdu book, p. 82

By Maulana Wahiduddin Khan

جہالت کرے اس کے جہل کا مقابلہ تم برداشت سے کرو۔ اور جب شیطان تھیں اکسائے تو اللہ سے پناہ مانگو، یعنی احسن طریقہ سے دفع کرنے کا حکم جو تھیں دیا گیا ہے، اگر شیطان تھیں اس کو چھوڑنے کے لئے ابھارے اور تم کو اکسائے کہ پکڑو اور انتقام لو تو شیطان کے دھوکے اور شر سے اللہ کی پناہ مانگو۔ اللہ یقیناً بندوں کے کلام کو سنتا ہے اور وہ ان کے اعمال سے باخبر ہے۔ صفوة التفاسير، جلد ثالث، صفحه ۱۲۳ عليك (تفسير القرطبي) واما ينزغنك من الشيطان نزغ فاستعذ بالله ) ای ومن وسوس اليك الشيطان بترك ما امرت به من الدفع بالتی هی احسن وارد ان يحملك على البطش والانتقام فاستعذ بالله من كيده و شره ( انه هو السميع العليم ) ای هو السميع لاقوال العباد ، العليم بافعالهم و احوالهم موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے ساتھ دوسری قوموں کی طرف سے جو کچھ پیش آ رہا ہے۔ اس کی وجہ ایک لفظ میں یہ ہے کہ مسلمانوں نے برداشت کو کھو دیا ہے۔ یہ دراصل اپنی بے صبری کی قیمت ہے جس کو آج مسلمان بھگت رہے ہیں۔ صبر اور برداشت کھونے کا سبب یہ ہے کہ داعیانہ مقصد ان کے سامنے نہیں رہا۔ مسلمانوں کو اگر دوبارہ اٹھانا ہے تو ان کو اس کے لئے تیار کرنا ہوگا کہ وہ دعوت کو اپنا مقصد حیات بنائیں۔ اس کے بعد ہی ان کے اندر وہ محرک پیدا ہو گا جو آدمی کو بلند حوصلہ اور بلند کردار بناتا ہے۔ اور جو قوم بلند حوصلہ اور بلند کردار ہو اس کو کوئی بھی چیز شکست نہیں دے سکتی۔ مسلمانوں کو اگر داعی گر دہ کی حیثیت سے اٹھا یا جاسکے تو ان کے اندر اپنے آپ حکمت اور صبر کی وہ صفات پیدا ہو جائیں گی جو گویا ہر قسم کے فساد کی قاتل ہیں۔ دعوت الی اللہ کے لئے اٹھنا اپنے آپ کو آخرت کی پگڑ سے بچانا ہے، اور اسی کے ساتھ دنیا کی پگڑ سے بچانا بھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page