Urdu book · حقیقت حج

حج کی اجتماعیت

Urdu book, p. 108

By Maulana Wahiduddin Khan

جاتا ہے۔ چنانچہ اس میں ہر قسم کے عبادتی پہلو پائے جاتے ہیں۔ انھیں میں سے ایک اجتماعی پہلو بھی ہے حج کی عبادت میں اجتماعیت کا پہلو بہت نمایاں طور پر موجود ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1984) میں حج کی تفصیل دیتے ہوئے یہ جملہ لکھا گیا ہے : “About 2,000,000 persons perform the Hajj each year. and the rite serves as a unifying force in Islam by bringing followers of diverse background together in religious celebration.” (Encyclopedia Britannica, 1985, Vol. 4, p. 844) تقریباً دو ملین آدمی ہر سال حج کرتے ہیں اور یہ عبادت مختلف ملکوں کے مسلمانوں کو ایک مذہبی تقریب میں یکجا کر کے اسلام میں اتحادی طاقت کا کام کرتی ہے۔ قرآن میں حج کا حکم دیتے ہوئے یہ الفاظ آتے ہیں: وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا (2: 125)۔ یعنی خدا نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے مثابہ بنایا اور اس کو امن کی جگہ بنا دیا۔ "مثابہ" کے معنی عربی زبان میں تقریباً وہی ہیں جس کو آج کل کی زبان میں مرکز کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہوں۔ جس کی طرف سب لوگ رجوع کریں جو سب کا مشترک مرجع اور شیرازہ ہو۔ حج کی عبادت کے لیے ساری دنیا سے ہر ہر ملک کے لوگ آتے ہیں۔ ہر ہر قوم کے لوگ آتے ہیں۔ ان کی تعداد سالانہ تقریباً 25 لاکھ ہو جاتی ہے۔ حج کے موسم میں مکہ اور اس کے آس پاس ہر طرف آدمی ہی آدمی دکھائی دینے لگتے ہیں۔ یہ لوگ مختلف زبانیں بولتے ہیں۔ ان کے حلیے الگ الگ ہوتے ہیں۔ مگر یہاں آنے کے بعد سب کی سوچ ایک ہو جاتی ہے۔ سب ایک ہی مشترک نشانہ پر چلتے نظر آتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی ربانی مقناطیس ہے جو "لوہے" کے تمام ٹکڑوں کو ایک نقطہ پر کھینچے چلا جا رہا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page