Urdu book · حقیقت حج

حقیقت حج

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

کیا جائے یا مروہ کی طرف سے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے موقع پر یہ عمل کیا تو فرمایا: اَبۡدَأُ بِمَا بَدَأَ اللّٰہُ بِہ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1218)۔ یعنی، میں اس سے شروع کرتا ہوں جس سے اللہ نے شروع کیا۔ اس سے آپ کا اشارہ قرآن کی اس آیت کی طرف تھا: اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہ (2:158)۔ یعنی، صفا اور مروہ، بیشک اللہ کی یادگاروں میں سے ہیں۔ یہ وہ آیت ہے جس میں حاجی کو صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس آیت کی ترتیب بیان یہ ہے کہ اس میں صفا کا لفظ پہلے ہے اور مروہ کا لفظ اس کے بعد ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ترتیب بیان ہی کو ترتیب عمل بھی بنالو۔ تا کہ ایک ترتیب کا یاد رکھنا دوسری ترتیب کے لیے کافی ہو جائے۔ دو ترتیب الگ الگ یاد رکھنی نہ پڑے۔ حج کو مقام اعلان بنانے میں بھی یہی فطری حکمت ہے۔ حج کی عبادت کو ادا کرنے کے لیے تمام دنیا کے مسلمان ہر سال ایک جگہ جمع ہوتے ہیں اور ہمیشہ جمع ہوتے رہیں گے۔ اس لیے اللہ نے اسی کو اجتماعی اعلان کا مقام بنا دیا۔ تاکہ ایک ہی اجتماع دونوں مقصد کے حصول کے لیے کافی ہو جائے۔ حج کے موقع پر اجتماعی اعلان کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس طرح اس کو ایک مقدس حیثیت حاصل ہو جاتی ہے۔ حج کا مقام مسلمانوں کا انتہائی مقدس مقام ہے، اس لیے جو اعلان حج کے مقام پر کیا جائے وہ بھی اپنے آپ لوگوں کی نظر میں مقدس اور محترم بن جائے گا۔ حج کی اجتماعیت حج اسلام کی ایک نہایت اہم سالانہ عبادت ہے۔ وہ قمری کیلنڈر کے آخری ماہ ذوالحجہ میں ادا کیا جاتا ہے۔ حج کی عبادت کے مراسم بیت اللہ (مکہ) میں یا اس کے آس پاس کے مقامات پر ادا کیے جاتے ہیں جو عرب میں واقع ہے۔ اس عبادت کو تمام عبادتوں کا جامع کہا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page