Urdu book · حقیقت حج

حج کی تاریخ

Urdu book, p. 111

By Maulana Wahiduddin Khan

مرکز ہے۔ یہی مرکز تو حید حج کے مراسم کی ادائیگی کا مرکز بھی ہے۔ حج کی عبادت میں جو مراسم ادا کیے جاتے ہیں ان کے بعض پہلوؤں کو دیکھیے ۔ حج کے دوران حاجی سب سے زیادہ جو کلمہ بولتا ہے وہ یہ ہے: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 9538)۔ اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اور اسی کے لیے ہے ساری تعریف۔ حاجی کی زبان سے بار بار یہ الفاظ کہلوا کر تمام لوگوں کے اندر یہ نفسیات پیدا کی جاتی ہے کہ بڑائی صرف ایک اللہ کی ہے۔ اس کے سوا جتنی بُرائییاں ہیں، سب اس لیے ہیں کہ اسی ایک عظیم تر بڑائی میں گم ہو جائیں ۔ یہ احساسِ اجتماعیت کا سب سے بڑا راز ہے۔ اجتماعیت اور اتحاد ہمیشہ وہاں نہیں ہوتا جہاں ہر آدمی اپنے کو بڑا سمجھ لے۔ اس کے برعکس، جہاں تمام لوگ کسی ایک کے حق میں اپنی انفرادی بڑائی سے دست بردار ہو جائیں وہاں اتحاد اور اجتماعیت کے سوا کوئی اور چیز پائی نہیں جاتی۔ بے اتحادی بُرائیوں کی تقسیم کا نام ہے اور اتحاد بُرائیوں کی وحدت کا۔ اسی طرح حج کا ایک اہم رکن طواف ہے۔ دنیا بھر کے لوگ جو حج کے موسم میں مکہ میں جمع ہوتے ہیں وہ سب سے پہلے کعبہ کا طواف کرتے ہیں۔ یہ اس بات کا عملی اقرار ہے کہ آدمی اپنی کوششوں کا مرکز ومحور صرف ایک نقطہ کو بنائے گا۔ وہ ایک ہی دائرہ میں حرکت کرے گا۔ یہ عین وہی مرکز ہے جو مادی سطح پر نظامِ شمسی میں نظر آتا ہے۔ نظامِ شمسی کے تمام سیارے ایک ہی سورج کو مرکزی نقطہ بنا کر اس کے گرد گھومتے ہیں۔ اسی طرح حج یہ سبق دیتا ہے کہ انسان ایک خدا کو اپنا مرجع بنا کر اس کے دائرے میں گھومے۔ اس کے بعد حاجی صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتا ہے۔ وہ صفا سے مروہ کی طرف جاتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page