حقیقت حج
Urdu book, p. 112
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے اور پھر مروہ سے صفا کی طرف لوٹتا ہے۔ اس طرح وہ سات چکر لگاتا ہے۔ یہ عمل کی زبان میں اس بات کا سبق ہے کہ آدمی کی دوڑ دھوپ ایک حد کے اندر بندھی ہوئی ہونی چاہیے۔ اگر آدمی کی دوڑ دھوپ کی کوئی حد نہ ہو تو کوئی ایک طرف بھاگ کر نکل جائے گا اور کوئی دوسری طرف۔ مگر جہاں دوڑ دھوپ کی حد بندی کردی گئی ہو وہاں ہر آدمی بندھا رہتا ہے۔ وہ بار بار وہیں لوٹ کر آتا ہے جہاں اس کے دوسرے بھائی اپنی سرگرمیاں جاری کیے ہوئے ہوں۔ یہی حج کے دوسرے تمام مراسم کا حال ہے۔ حج کے تمام مراسم مختلف پہلوؤں سے لوگوں کو ایک ہونے اور مل کر کام کرنے کا سبق دیتے ہیں۔ وہ ایک آواز پر حرکت کرنے کا عملی مظاہرہ ہیں۔ مرکزِ اتحاد حج اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے خدا کی طرف سفر ہے۔ عام انسان موت کے بعد خدا کے دربار میں حاضر ہوں گے، مومن موت سے پہلے ہی اپنے آپ کو خدا کے دربار میں حاضر کر دیتا ہے۔ دوسروں کی خدا کے یہاں حاضری مجبورانہ حاضری ہے۔ اور مومن کی خدا کے یہاں حاضری اختیارانە حاضری۔ عرفات کے میدان میں بیک وقت ساری دنیا کے حاجیوں کا اجتماع یہی منظر پیش کرتا ہے۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے : اَلْحَجُّ عَرَفَةُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 889)۔ عرفہ ہی حج ہے۔ تاہم حج ایک جامع عبادت ہے۔ اس میں دوسرے تمام پہلو بھی براہِ راست یا بالواسطہ انداز میں جمع کر دیے گئے ہیں۔ انھیں مزید فائدے میں سے ایک یہ ہے کہ حج عالمی اسلامی اتحاد کا ذریعہ ہے کعبہ گویا وہ مرکزی نقطہ ہے جس کے گرد دنیا بھر کے خدا پرستوں کا عبادتی دائرہ قائم ہوتا ہے۔ عرفات کی حاضری کا اصل پہلو وہی ہے جو اخروی ہے۔ تاہم اس میں اہلِ اسلام کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader