پرہیز گاری کا سبق
Urdu book, p. 116
By Maulana Wahiduddin Khan
پرہیزگاری کا سبق حج کے بارے میں جو آیتیں قرآن میں آئی ہیں، ان میں سے ایک آیت یہ ہے : الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ ۚ فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ ۗ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ ۗ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ ۚ وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ (2:197)۔ یعنی، حج کے متعین مہینے ہیں۔ بس جو شخص ان میں حج کا عزم کرے تو اس کے لیے حج میں نہ شہوت کی بات کرنا ہے، نہ فسق کی بات، نہ لڑائی جھگڑا۔ اور تم جو نیکی بھی کرو گے اللہ اس کو جانتا ہے۔ اور تم زادِ راہ لو۔ کیونکہ تقویٰ کا زادِ راہ سب سے بہتر ہے۔ اور اے عقل والو مجھ سے ڈرو۔ اسلام سے پہلے جاہلیت کے زمانہ میں بھی حج کا رواج تھا۔ مگر ان لوگوں کے لیے حج ایک قسم کا قومی میلہ تھا، نہ کہ اللہ واحد کی عبادت۔ چنانچہ اس زمانہ میں حج کے دنوں میں وہ سب کچھ ہوتا تھا جو قومی میلوں میں عام طور پر ہوتا ہے۔ اسلام نے ان تمام چیزوں کو بند کر دیا۔ اس سلسلہ کا ایک حکم یہ دیا گیا کہ حج کے زمانہ میں رفث اور فسوق اور جدال سے مکمل پرہیز کیا جائے۔ رفث سے مراد شہوانی باتیں ہیں۔ فسوق کا مطلب اللہ کی نافرمانی ہے۔ اور جدال سے مراد آپس کا لڑائی جھگڑا ہے۔ یہ چیزیں عام حالات میں بھی منع ہیں۔ مگر حج کے دنوں میں ان کو خصوصی اہتمام کے ساتھ قابل ترک قرار دے دیا گیا۔ اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ سفر اور اجتماع کی وجہ سے حج کے دنوں میں ان چیزوں کے مواقع نسبتاً زیادہ پیش آتے ہیں۔ آدمی کا شعور اگر ان برائیوں کے خلاف پوری طرح بیدار نہ ہو تو اندیشہ ہے کہ اس زمانہ میں وہ دانستہ یا نادانستہ طور پر اس میں پڑ جائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader