حقیقت حج
Urdu book, p. 117
By Maulana Wahiduddin Khan
مومن وہ ہے جو شہوت کے لیے جینے کے بجائے مقصد کے لیے جینے لگے۔ وہ اپنے معاملات میں خدا کی نافرمانی سے بچنے کا اہتمام کرتا ہو۔ وہ اجتماعی زندگی میں آپس کے لڑائی جھگڑے سے بچارہے۔ یہ اوصاف مومن کے اندر ہمیشہ ہونے چاہیے۔ مگر حج کے زمانہ میں تو وہ اس بات کی خصوصی علامت ہیں کہ آدمی فی الواقع حاجی بنا ہے یا نہیں۔ اگر آدمی کے اوپر تقویٰ کی وہ کیفیات طاری ہوئی ہوں جو واقعۃً سفر حج کے دوران طاری ہونی چاہیے تو ناممکن ہے کہ وہ ان برائیوں میں پڑے۔ یہ تمام چیزیں تقویٰ کی نفی ہیں جہاں یہ چیزیں ہوں گی وہاں تقویٰ نہیں ہوگا اور جہاں تقویٰ ہوگا وہاں یہ چیزیں بھی لازما ً رخصت ہو جائیں گی۔ مزید اہتمام حج کے دنوں میں جو کچھ کرنا منع ہے وہ وہی ہے جس کو بقیہ دنوں میں بھی کرنا منع ہے۔ حج کے دوران میں ان چیزوں کی ممانعت بطور خصوصی تربیت ہے۔ حج میں شریعت کی ان ممنوعات پر مبالغہ کے ساتھ عمل کرایا جاتا ہے تاکہ ان کے بارے میں آدمی کا احساس تیز ہو اور بقیہ دنوں میں ان سے بچنے کی خصوصی استعداد اس کے اندر پیدا ہو جائے۔ انسان جب اپنے گھر اور کاروبار میں ہوتا ہے تو وہ اپنے ذاتی معاملات میں الجھا رہتا ہے۔ وہ اس سے آگے کی حقیقتوں کو بھول جاتا ہے۔ اس لیے آدمی کو روزانہ نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد میں لایا جاتا ہے تاکہ کچھ دیر کے لیے وہ اپنے ذاتی ماحول سے علیحدہ ہو اور اپنے ذہن کو غیر متعلق چیزوں سے خالی کر کے یکسوئی کے ساتھ خدا کی طرف متوجہ ہو سکے۔ حج کا سفر بھی اس نوعیت کی ایک چیز ہے۔ حج کے دنوں میں اسی مقصد کے لیے آدمی کو اس کے محدود ماحول سے نکال کر زیادہ لمبی مدت تک کے لیے حجاز (عرب) کے مختلف مقامات پر لے جایا جاتا ہے۔ حج کسی آدمی کے لیے اس کے دنیوی ماحول سے کامل علیحدگی کا نام ہے تاکہ وہ کامل یکسوئی کے ساتھ اپنے خدا کی طرف متوجہ ہو سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader