Urdu book · حقیقت حج

خود فراموشی

Urdu book, p. 122

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ حاجی کون ہے۔ آپ نے فرمایا ”پراگندہ بال اور غبار آلود“ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3243)۔ ان الفاظ میں اصلی حاجی کی تعریف بتائی گئی ہے۔ الجھے ہوئے بال اور گرد سے اٹا ہوا جسم بامقصد آدمی کی پہچان ہے۔ جب کوئی شخص پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنے آپ کو کسی خاص کام کے لیے وقف کر دے تو اس کو آرائش و زیبائش کی فرصت نہیں رہتی۔ حج میں بالقصد اس قسم کا حلیہ بنانے کا حکم گویا بامقصد زندگی گزارنے کا ایک تاکیدی سبق ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی خدائی مقصد میں اپنے آپ کو اس حد تک مشغول کرے کہ اس کو اپنے ظاہر کو بنانے اور سنوارنے کی سُدھ نہ رہے۔ وہ وقتی لذتوں کو بھول جائے۔ برتر مقصد کو پانے کی دھن میں اس کو اپنے ذاتی تقاضے یاد نہ رہیں۔ حج کا حکم دیتے ہوئے قرآن میں کہا گیا ہے: اور تم سفر حج میں تقویٰ کا زادِ راہ لو، بہترین زادِ راہ تقویٰ کا زادِ راہ ہے۔ اے عقل والو اللہ سے ڈرو (2:197)۔ قدیم عرب میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ حج کے لیے زادِ راہ لے کر نکلنا دنیا دارانہ فعل ہے۔ جو شخص حج کے لیے اس طرح نکلے کہ وہ دنیا کا سامان لیے بغیر حج کے سفر پر چل پڑا ہو وہ پارسا اور دیندار خیال کیا جاتا تھا۔ ایسے لوگ اپنے بارے میں کہتے کہ ہم متوکل ہیں: نَحْنُ المُتَوَکَّلُونَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1523)۔ یعنی، ہم خدا کے سوا کسی چیز پر بھروسہ نہیں کرتے۔ مگر قرآن میں یہ بتایا گیا کہ اس قسم کی ظاہری نمائش کا نام دین داری نہیں ہے۔ دین داری کا تعلق دل اور ذہن سے ہے، نہ کہ کسی قسم کے خارجی مظاہرہ سے۔ آدمی کو جس چیز سے بچنا ہے وہ یہ ہے کہ اس کا دل اور اس کا ذہن غیر اللہ کے حَبّ شدید (البقرہ، 2:165) سے خالی ہو، نہ یہ کہ اس کی جھولی میں کوئی کھانے پینے کا سامان نظر نہ آتا ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page