Urdu book · حقیقت حج

حقیقت حج

Urdu book, p. 121

By Maulana Wahiduddin Khan

شخص نے حج کے مراسم اس طرح ادا کیے کہ دوسرے انسان اس کی زبان اور اس کے ہاتھ سے محفوظ رہے تو اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے: مَنْ قَضَى نُسُكَهُ وَسَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ (تاریخ دمشق، جلد 29، صفحہ 362)۔ گویا حج کا فریضہ ادا کرتے ہوئے حاجی کو جس چیز سے خاص طور پر بچنا ہے، وہ یہ کہ اس کی زبان سے کسی بندہ خدا کے دل کو ٹھیس نہ لگے۔ اس کے ہاتھ سے کسی انسان کو تکلیف نہ پہنچے۔ جو حج آدمی کے تمام گناہوں کو ختم کر دیتا ہے وہ وہی حج ہے جس سے آدمی اس قسم کی زبان اور اس قسم کا ہاتھ لے کر واپس آیا ہو۔ خود فراموشی حج کے دوران لذت اور آرائش کی چیزوں کو بھی ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ حج کا عمل احرام سے شروع ہوتا ہے۔ احرام ایک سادہ لباس (ایک سفید تہمد اور ایک سفید چادر) ہے جو حرم کے حدود میں داخل ہوتے ہی ہر حاجی اور (احناف کے مطابق) زائر کے لیے ضروری ہو جاتا ہے۔ احرام گویا ایک قسم کا فقیرانہ لباس ہے جو زیارت کعبہ کے لیے پہنا جاتا ہے۔ یہ پہلی علامتی تدبیر ہے جس کے ذریعہ سے خدا اپنے بندوں کو یہ احساس دلاتا ہے کہ سارے انسان برابر ہیں۔ جن ظاہری چیزوں کی بنیاد پر لوگ ایک دوسرے پر فخر کرتے ہیں یا کسی کو اونچا یا کسی کو نیچا سمجھتے ہیں وہ سب خدا کی نظر میں سراسر باطل ہیں۔ خدا سب کو ایک نظر سے دیکھتا ہے، ٹھیک ویسے ہی جیسے حج کے زمانہ میں لاکھوں حاجی ایک قسم کا لباس پہننے کی وجہ سے بالکل ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں۔ گویا حج کا احرام اسلام کے اس اصول کا ایک عملی مظاہرہ ہے کہ سب انسان برابر ہیں۔ جو لوگ خدا کے اچھے بندے بننا چاہتے ہیں ان کے لیے لازم ہے کہ وہ ہر قسم کے دوسرے ”لباس“ اپنے اوپر سے اتار دیں اور سب کے سب ایک خدائی لباس میں ملبوس ہو جائیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page