مسائل حج
Urdu book, p. 124
By Maulana Wahiduddin Khan
مسائل حج حج اسلام کا پانچواں رکن ہے۔ ہر مسلمان مرد عورت پر استطاعت کی صورت میں ایک بار حج کرنا فرض ہے۔ حج کی ادائیگی کے پانچ دن ہیں۔ 8 ذی الحجہ سے 12 ذی الحجہ تک۔ حج کے لیے جانے والے مکہ پہنچنے سے پہلے ایک مقررہ مقام پر احرام (حج کا لباس) پہنتے ہیں۔ اس مقام کو میقات کہا جاتا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے باشندوں کی میقات یلم لم کی پہاڑی ہے۔ مدینہ کی طرف سے آنے والوں کے لیے ذی الحلیفہ۔ کوفہ، بصرہ اور بغداد کی طرف سے آنے والوں کے لیے ذات عرق۔ ترکی اور شام کی طرف سے آنے والوں کے لیے جُحفہ ہے۔ مکہ پہنچنے سے پہلے میقات پر احرام باندھ لینا ضروری ہے۔ 8 ذی الحجہ کو یوم ترویہ بھی کہتے ہیں۔ اس تاریخ کو رات میں یا صبح کی نماز کے فوراً بعد غسل کر کے احرام کی ایک چادر تہمد کی طرح پہن لیں اور دوسری اوڑھ لیں۔ خوشبو لگائیں۔ حرم میں پہنچ کر کعبہ کا طواف کریں۔ مقام ابراہیم پر دو رکعت نفل نماز واجب الطواف پڑھیں ۔ دعا اور استغفار کریں۔ اس کے بعد دو رکعت نماز احرام کی نیت سے ادا کریں۔ جب یہ نماز پڑھیں تو سراحرام کی چادر سے ڈھکا ہوا ہو۔ نماز پوری کر چکیں تو سر سے چادر ہٹا لیں اور اس طرح نیت کریں: اَللّٰهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ فَيَسِّرْهُ لِي وَتَقَبَّلْهُ مِنِّی (مصنف عبد الرزاق، حدیث نمبر 9703)۔ یعنی، اے اللہ میں حج کا ارادہ کرتا ہوں، تو اس کو میرے لیے آسان کر دے اور میری جانب سے اس کو قبول فرما۔ احرام باندھنے سے لے کر حج ختم ہونے تک اٹھتے بیٹھتے اور حج کے ارکان ادا کرتے ہوئے بار بار مندرجہ ذیل دعا پڑھی جاتی ہے جس کو تلبیہ کہتے ہیں۔ مرد بلند آواز سے تلبیہ کہیں اور عورتیں آہستہ آہستہ:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader