Urdu book · حقیقت حج

مسائل حج

Urdu book, p. 125

By Maulana Wahiduddin Khan

لَّبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ“ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1549؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1184) ۔ حاضر ہوں خدایا میں حاضر ہوں ۔ حاضر ہوں ۔ تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں ۔ تعریف اور نعمت تیرے ہی لیے ہے اور بادشاہی میں تیرا کوئی شریک نہیں۔ حج کے دوران ایک مرتبہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا واجب ہے۔ یہ سعی عرفات کی حاضری سے پہلے یا نفلی طواف یا طواف زیارت کے بعد کر سکتے ہیں۔ طواف زیارت (منیٰ سے واپسی کے بعد) کرنا افضل ہے۔ کمزور لوگ ہجوم کے خیال سے پہلے ہی اس ذمہ داری سے سبک دوش ہو سکتے ہیں۔ طواف کعبہ کے سات چکر ہیں۔ پہلے حجر اسود کا استلام کریں۔ اس کے بعد اضطماع کریں۔ یعنی ابتدائی تین چکر میں چادر کو داہنے مونڈھے کے نیچے سے نکال کر دونوں کونوں کو بائیں مونڈھے پر ڈال لیں اور تیزی سے اکڑ کر چلیں جس کو رمل کہتے ہیں (عورتوں کو اضطماع اور رمل کی ضرورت نہیں)، باقی چار پھیرے معمول کے مطابق کریں۔ طواف کے دوران دعا پڑھتے رہیں۔ آخر میں مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز پڑھیں۔ اس کے بعد ملتزم پر آئیں اور خوب دعا کریں۔ اس کے بعد زمزم پییں اور دعا کریں۔ پھر سعی کے لیے باب الصفا سے ہو کر صفا کی طرف چلیں۔ اور پھر صفا سے مروہ کی طرف۔ اب سعی کا ایک پھیر پورا ہو گیا۔ اسی طرح سات پھیرے صفا سے مروہ اور مروہ سے صفا تک کریں۔ اس سعی کے دوران تکبیر و تہلیل اور دعا کرتے رہنا چاہیے۔ سعی میں مردوں کو میلین اخضرین کے درمیان دوڑ کر چلنا چاہیے۔ سعی میں سات پھیرے اس طرح کریں کہ ساتواں پھیر امر وہ پر ختم ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page