Urdu book · حقیقت حج

حقیقت حج

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

یعنی 33 سالہ چکر پورا ہو کر آج 9 ذی الحجہ دوبارہ 9 ذی الحجہ کو پڑ رہا ہے۔ یہی نظام قدرت کے مطابق ہے۔ اب سابقہ مصنوعی کیلنڈر ختم کیا جاتا ہے۔ آئندہ اسی قدرتی کیلنڈر کے مطابق ہر سال ذی الحجہ میں حج ادا کیا جاتا رہے گا۔ خطبہ حجۃ الوداع حجۃ الوداع کا خطبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری اہم ترین تقریر ہے۔ یہ وہ خطبہ ہے جو آپ نے 9 ذی الحجہ 10 ھ کو عرفات کے میدان میں دیا تھا۔ حجۃ الوداع گویا زمانہ نبوت کا سب سے بڑا اسلامی اجتماع تھا۔ اس موقع پر تقریباً سوا لاکھ اصحاب رسول جمع تھے۔ اس وقت اپنی وفات سے تقریباً دو ماہ قبل آپ نے یہ خطبہ دیا۔ اس میں آپ نے ان تمام باتوں کا آخری اعلان فرمایا جس کے لیے آپ مبعوث کیے گئے تھے۔ حدیث کی کتابوں میں حجۃ الوداع کا نہایت تفصیلی تذکرہ ہے۔ مگر خطبہ حجۃ الوداع کسی روایت میں ایک کامل متن کی صورت میں مذکور نہیں۔ مختلف روایتوں میں اس کے متفرق اجزاء ملتے ہیں۔ متعدد اہل علم نے ان اجزاء کو جوڑ کر ایک مجموعہ بنانے کی کوشش کی۔ یہ خطبہ ایک لفظ میں خدا کی عظمت اور انسان کی مساوات کا اعلان تھا۔ آپ نے بتایا کہ انسانوں کے درمیان صحیح تقسیم صرف ایک ہے اور وہ خدا پرست ہونے اور خدا پرست نہ ہونے کی ہے۔ اس کے سوا دوسری تمام تقسیمات مصنوعی ہیں۔ آپ نے انہیں باطل ٹھہرایا اور امت کو ذمہ دار بنایا کہ وہ ہمیشہ اس کا اعلان کرتی رہے۔ اس اعلان کا ایک عملی اظہار یہ تھا کہ جس وقت سوا لاکھ انسانوں کے درمیان آپ نے عظمتِ خداوندی اور مساواتِ انسانی کا یہ خطبہ دیا اس وقت آپ کے سب سے زیادہ قریب دو آزاد شدہ غلام تھے۔ ایک بلال حبشی جو آپ کی سواری کی مہار پکڑے ہوئے تھے۔ اور دوسرے اسامہ بن زید جو آپ کے سر پر کپڑے کا سایہ کیے ہوئے تھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page