Urdu book · حقیقت حج

ایک سبق

Urdu book, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

حج تو سابقہ طریقہ پر ذی قعدہ کے مہینہ میں پڑ رہا تھا۔ مگر 10 ھ میں 33 سالہ دور پورا ہو کر حج عین اپنی اصل تاریخ میں آ رہا تھا۔ یعنی ذی الحجہ میں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعتبار سے دین ابراہیمی کے مجدد تھے۔ آپ اللہ کی طرف سے اس پر مامور تھے کہ حج کے نظام کو دوبارہ ابراہیمی بنیاد پر قائم کریں۔ 8 ھ میں فاتح مکہ کی حیثیت سے آپ اس کا اعلان کر سکتے تھے۔ مگر آپ نے اس وقت ایسا نہیں کیا۔ اسی طرح 9 ھ میں آپ کے لیے ممکن تھا کہ حج کو ابراہیمی تاریخوں میں ادا کیے جانے کی ہدایت جاری کر دیں۔ مگر اب بھی آپ خاموش رہے۔ یہ ضروری کام آپ نے 10 ھ میں کیا جب کہ حج کی تاریخ اپنے آپ ابراہیمی تاریخوں میں پہنچ گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ 8 ھ اور 9 ھ میں ایسا کرنے کے لیے صدیوں کی قائم شدہ روایات کو توڑنا پڑتا۔ جب کہ 10 ھ میں روایات کو توڑے بغیر یہ مقصد اپنے آپ حاصل ہو رہا تھا۔ سماجی زندگی میں روایات کی بیحد اہمیت ہوتی ہے۔ اس لیے پیغمبر کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ روایات کو توڑے بغیر اپنا مقصد حاصل کیا جائے۔ آپ نے 10 ھ میں حسب قاعدہ ابراہیمی تاریخ پر حج ادا فرمایا اور پھر یہ اعلان کر دیا کہ آئندہ اب ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ یہی وہ حکمت ہے جو رسول خدا کے حجۃ الوداع کے خطبہ میں ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے: ”عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا (صحيح البخاري، حدیث نمبر 5550؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1679)۔ یعنی، اے لوگو! زمانہ گھوم گیا۔ پس آج کے دن وہ اپنی اس ہیئت پر ہے جس دن کہ اللہ نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا تھا۔ اور مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page