دوسرا خطبہ
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسرا خطبہ اے لوگو! تم کیا جانتے ہو کہ تم کس مہینہ میں ہو اور تم کس دن میں ہو اور تم کس شہر میں ہو۔ لوگوں نے کہا کہ حرام دن اور حرام شہر اور حرام مہینہ میں۔ آپ نے فرمایا کہ تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزّتیں تمہارے اوپر اسی طرح قیامت تک کے لیے حرام ہیں جس طرح تمہارا یہ دن، تمہارا یہ مہینہ اور تمہارا یہ شہر حرام ہے۔ پھر فرمایا، میری بات سنو اور اس کے مطابق زندگی گزارو۔ خبردار، ظلم نہ کرنا۔ بے شک کسی مسلمان آدمی کا مال لینا جائز نہیں، الّا یہ کہ وہ راضی ہو۔ سنو، جاہلیت کا ہر خون اور مال اور شرف قیامت تک کے لیے میرے دونوں قدموں کے نیچے ہیں، پہلا خون جو درگزر کیا جاتا ہے وہ ربیعہ ابن حارث ابن عبد المطلب کے بیٹے کا خون ہے۔ وہ بنوسعد میں دودھ پلانے والی دائی کے پاس تھا تو اس کو ہذیل نے قتل کر دیا تھا۔ جاہلیت کے تمام سود باطل کیے گئے اور اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ پہلا سود جو باطل کیا جائے وہ عباس بن عبد المطلب کا سود ہے۔ تمہارے لیے تمہارا راس المال (principal sum) ہے، نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ تمہارے اوپر کوئی ظلم کیا جائے۔ سنو، زمانہ گھوم گیا (پس وہ آج) اسی نقطہ پر ہے جس دن کہ خدا نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تھا۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: خدا کے نزدیک مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہیں، خدا کی کتاب میں، جس دن کہ اس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا۔ ان میں سے چار مہینے محترم ہیں۔ یہی سیدھا دین ہے، پس تم ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو (9:36)۔ سنو، میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ آپس میں ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔ سنو، شیطان اس سے مایوس ہو چکا ہے کہ نماز پڑھنے والے اس کی عبادت کریں، لیکن آپس میں تم کو برانگختہ کر کے وہ اپنا مقصد حاصل کرے گا۔ اور عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ کیونکہ وہ تمہاری دست نگر ہیں۔ وہ اپنے لیے کچھ نہیں کر سکتیں اور تمہارے اوپر ان کا حق ہے اور ان کے اوپر تمہارا حق ہے، یہ کہ تمہارے بستر پر وہ تمہارے سوا کسی اور کو نہ آنے دیں اور نہ ایسے شخص کو تمہارے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader