Urdu book · حقیقت حج

حقیقت حج

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

گھر میں آنے دیں جس کو تم ناپسند کرتے ہو۔ پھر اگر تم ان سے نافرمانی کا اندیشہ محسوس کرو تو ان کو نصیحت کرو۔ اور ان کو خواب گاہوں میں چھوڑ دو۔ اور ان کو ہلکی مار مارو۔ اور انہیں معروف طریقے پر کھانے اور کپڑے کا حق ہے۔ تم نے ان کو خدا کی امانت کے طور پر لیا ہے۔ اور ان کی شرمگاہوں کو اللہ کے کلمہ سے حلال کیا ہے۔ سنو، جس کے پاس کوئی امانت ہو تو وہ اس کو صاحب امانت کو واپس کر دے۔ اس کے بعد آپ نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اور فرمایا۔ کیا میں نے پہنچا دیا، کیا میں نے پہنچا دیا۔ پھر آپ نے کہا جو حاضر ہے وہ غیر حاضر کو پہنچادے کیونکہ بہت سے وہ لوگ جنہیں پہنچایا جائے وہ سننے والوں سے زیادہ خوش بخت ہوتے ہیں۔ تشریح اس پورے خطبہ کا خلاصہ اس کے اس لفظ میں ہے: أَلَا لَا تَظْلِمُوا، أَلَا لَا تَظْلِمُوا (خبردار ظلم نہ کرنا۔ خبردار ظلم نہ کرنا)۔ اس خطبہ کا مقصد ظلم کے ہر دروازہ کو بند کرنا ہے خواہ وہ جھوٹے توہمات کی وجہ سے پیدا ہوا ہو یا غلط قوانین کی وجہ سے یا غرور اور سرکشی کی وجہ سے۔ اس مقصد کے لیے اعلان کر دیا گیا کہ اصولی طور پر ہر آدمی کا خون، اس کا مال اور اس کی آبرو دوسرے کے لیے حرام ہے، إلَّا یہ کہ اللہ کے واضح قانون کی بنا پر اس کا جواز ثابت ہوتا ہو۔ جاہلی روایات اور انتقامی جذبات کے تحت ایک دوسرے کے خلاف جو کارروائیاں کی جاتی ہیں وہ مطلق طور پر ممنوع قرار دیدی گئیں۔ سودی لین دین کو بالکل حرام قرار دے دیا گیا جو کہ سماج کے مختلف طبقات کے درمیان معاشی ظلم پیدا کرتا ہے۔ نیز دوسرے بالواسطہ طریقوں سے سماجی انصاف میں زبردست رکاوٹ ہے۔ عورتوں کے حقوق کو واضح طور پر متعین کر دیا گیا۔ اور مردوں کو اس سے روک دیا گیا کہ وہ عورت کو کمزور پا کر انھیں اپنی زیادتی کا نشانہ بنائیں۔ انسانوں کے درمیان باہمی معاملات کے لیے خدا کی کتاب اور رسول کی سنت کو آخری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page