Urdu book · حقیقت حج

تشریح

Urdu book, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

معیار قرار دے دیا گیا۔ لوگوں کو پابند کیا گیا کہ وہ اپنا ہر جھگڑا قرآن وسنت کے احکام کے ماتحت طے کریں، خواہ قرآن وسنت کا فیصلہ ان کی مرضی کے موافق ہو یا ان کی مرضی کے خلاف۔ مسلمانوں کو ان کی گمراہی کے واحد سب سے بڑے سبب سے روکا گیا، اور وہ آپس کی نزاع ہے۔ خدا نے آخری دین کو اتنا محفوظ اور مستحکم کر دیا ہے کہ اب دین میں بگاڑ کے لیے شیطان کو کوئی راستہ نہیں پاسکتا۔ البتہ مختلف قسم کے جھوٹے نزاع کھڑے کرکے وہ مسلمانوں کو آپس میں لڑائے گا۔ مسلمان اگر اس فتنہ سے بچ گئے تو پھر کوئی دوسری چیز انھیں ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ ایمان کا تقاضہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر امانت کی ادائیگی کا احساس پیدا ہو۔ خدا کے دین کو دوسروں تک پہنچانا بھی ادائیگی امانت ہے۔ لوگوں کے اموال کو انھیں لوٹانا بھی ادائیگی امانت ہے۔ اہل شخص کی اہلیت کا اعتراف کرکے اس کے لیے جگہ خالی کر دینا بھی ادائیگی امانت ہے۔ اور مسلمان کو پابند کیا گیا ہے کہ امانت کی ادائیگی کے ہر معاملہ میں وہ پوری طرح امین اور ذمہ دار ثابت ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خطبہ گویا ایک زندہ پکار ہے۔ وہی حاجی حقیقی معنوں میں حاجی ہے جو حج کے دوران اس پکار کو سنے اور وہاں سے اس حال میں لوٹے کہ یہ خطبہ اس کی پوری زندگی کا لائحہ عمل بن گیا ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page