حقیقت حج
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقتِ حج حج اسلام کا ایک بنیادی رُکن ہے۔ دوسری عبادات کی طرح اس کی اصل روح تقویٰ ہے تاہم اس کی ایک منفرد نوعیت بھی ہے۔ اور وہ یہ کہ اس کو ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کے ساتھ وابستہ کر دیا گیا ہے۔ حج کا مقصد یہ ہے کہ اللہ کا جو بندہ حج پر پہنچ سکتا ہے وہ اپنی عمر میں کم از کم ایک بار ضرور وہاں پہنچے۔ وہاں مختلف اعمال کے ذریعہ وہ اپنی کامل عبدیت کا ثبوت دے۔ وہ ابراہیمی سر زمین میں پہنچ کر علامتی طور پر آپ کے اعمال کو دہرائے اور اس طرح اپنے ظاہر و باطن کو ابراہیمی رنگ میں رنگنے کا جذبہ پیدا کرے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر کرنے کے بعد آواز بلند کی تھی کہ اے لوگو، آؤ اور اپنے رب کا حج کرو۔ حج کا سفر اسی ابراہیمی پکار پر لبیک کہنا ہے۔ حج کے موسم میں ہر طرف سے لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ کی جو صدا بلند ہوتی ہے وہ اسی ندائے ابراہیمی کا جواب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حج کرنے والا حضرت ابراہیم کی پکار پر لبیک کہتا ہوا اللہ کے یہاں حاضر ہو گیا ہے اور اس بات کا منتظر ہے کہ اس کو جو حکم بھی دیا جائے وہ اس کو دل و جان سے پورا کرنے میں لگ جائے۔ حج کے لفظی معنی ہیں قصد کرنا، زیارت کے لیے جانا۔ اسلامی شریعت میں حج سے مراد وہ سالانہ عبادت ہے جس میں آدمی مکہ جا کر خانہ کعبہ کا طواف کرتا ہے۔ عرفات کے میدان میں قیام کرتا ہے۔ اور دوسرے اعمال کرتا ہے جن کو مراسم حج کہا جاتا ہے۔ حج ایک جامع عبادت ہے۔ اس میں مال کا انفاق بھی ہے اور جسم کی مشقت بھی۔ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader