حقیقت حج
Urdu book, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
میں اللہ کا ذکر بھی ہے اور اللہ کے لیے قربانی بھی۔ حج ایک ایسی عبادت ہے جس میں بقیہ عبادتوں کی روح بھی کسی نہ کسی اعتبار سے شامل ہوگئی ہے۔ حج کے فرائض کی ادائیگی کا مرکز بیت اللہ ہے جو مکہ میں واقع ہے۔ بیت اللہ ایک بندۂ خدا کی اس پوری مومنانہ زندگی کی یاد دلاتا ہے جس کے آغاز میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی تاریخ ہے اور جس کے اختتام پر نبی آخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ۔ بیت اللہ اس واقعہ کا ایک یادگاری نمونہ ہے کہ کس طرح اللہ کا ایک بندہ اللہ کے لیے اپنا سب کچھ لٹادیتا ہے۔ کس طرح وہ اپنی زندگی کو اللہ کی مرضی میں ڈھال لیتا ہے۔ کس طرح وہ اللہ کے مشن میں اپنے آپ کو ہمہ تن لگادیتا ہے یہاں تک کہ اسی حال میں اس کی موت آجائے۔ خدا کی طرف سفر حج کا سفر خدا کی طرف سفر ہے۔ وہ دنیا کی زندگی میں اپنے رب سے قریب ہونے کی انتہائی شکل ہے۔ دوسری عبادتیں اللہ تعالیٰ کی یاد ہیں، جب کہ حج خود اللہ تعالیٰ تک پہنچ جانا ہے۔ عام عبادت اگر غیب کی سطح پر خدا کی عبادت ہے تو حج شہود کی سطح پر خدا کی عبادت ہے۔ حاجی جب کعبہ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو وہ ایسا محسوس کرتا ہے گویا وہ خود رب کعبہ کے سامنے کھڑا ہوا ہے۔ کعبہ کا طواف اس حقیقت کا مظہر ہے کہ بندہ اپنے رب کو پا کر پروانہ وار اس کے گرد گھوم رہا ہے۔ جب وہ ملتزم کو پکڑ کر دعا کرتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے گویا اس کو اپنے آقا کا دامن ہاتھ آ گیا ہے جس سے وہ بے تابانہ لپٹ گیا ہے اور اپنی ساری بات اس سے کہہ دینا چاہتا ہے۔ حج کی یہ خصوصیت اس لیے ہے کہ اس کے ادا کرنے کی جگہ ایک ایسا مقام ہے جہاں تجلیاتِ الہیٰ کا نزول ہوتا ہے۔ جس کو خدا نے اس مقصد کے لیے منتخب کیا کہ وہ خدا پرستانہ زندگی کے عظیم داعی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دینی عمل کا مرکز بنے۔ جہاں اسلام کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader