Urdu book · حقیقت حج

حج ایک تاریخ ساز عمل

Urdu book, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوتا اور اسی پر اس کی پوری اٹھان ہوتی۔ اس بنا پر پیغمبروں کی توحید کی دعوت کسی لوگوں کو اپیل نہیں کرتی تھی۔ اب خدا نے یہ منصوبہ بنایا کہ انسانوں کی ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو مشرکانہ ماحول سے الگ ہو کر پرورش پائے تاکہ وہ مشرکانہ تسلسل سے آزاد ہو کر سوچ سکے۔ اس کے لیے شہری آبادیوں سے دور ایک غیر آباد مقام ہی مناسب ہو سکتا تھا۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے عرب کے خشک علاقہ کا انتخاب کیا گیا جو اس زمانہ میں آباد دنیا سے الگ تھلگ بالکل غیر آباد حالت میں پڑا ہوا تھا۔ اب اس بے آب و گیاہ علاقہ میں ایک نئی نسل تیار کرنے کے لیے وہ پہلا انسان درکار تھا جو موت کی قیمت پر وہاں بسنے کے لیے تیار ہو۔ اس نازک موقع پر حضرت ابراہیم کو خواب دکھایا گیا کہ آپ اپنے نوجوان بیٹے اسماعیل کو ذبح کر رہے ہیں۔ یہ جسمانی ذبح حقیقتہً صحرائی ذبح کی تمثیل تھی۔ اس کے ذریعہ یہ دیکھنا مقصود تھا کہ کیا ابراہیم اس کے لیے تیار ہیں کہ وہ اپنے آپ کو خدائی منصوبہ میں اس طرح شامل کریں کہ اپنی محبوب اولاد کو لے جا کر حجاز میں بسا دیں جہاں خشک پہاڑوں اور رتیلے صحراؤں کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس زمانہ میں حجاز میں بسنا موت کی وادی میں بسنے کے ہم معنی تھا۔ قدیم زمانہ میں حجاز اسی لیے غیر آباد پڑا رہا کہ وہاں پانی اور سبزہ نہ تھا۔ قدیم حجاز کا مشرکانہ تمدن سے پاک رہنا اسی لیے ممکن ہوا کہ وہ زندگی کے سامان سے خالی تھا۔ قدیم حجاز کی وہ خصوصیت جس نے اس کو مشترک انسانوں سے خالی رکھا تھا، اسی نے اس کو اس قابل بنا دیا کہ وہاں موحدین کی ایک نئی نسل تیار کی جائے۔ حضرت ابراہیم کا اپنے نوجوان بیٹے (اسماعیل) کے گلے پر چھری رکھنا اس بات کا اظہار تھا کہ وہ اس قربانی کے لیے آخری طور پر تیار ہیں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کو اس منصوبہ خداوندی کے لیے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page