Urdu book · حقیقت حج

حج ایک تاریخ ساز عمل

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوتے ہیں۔ یہ اس عمل کی آخری صورت ہے جو لبیک اللہم لبیک کی صورت میں ہر حاجی کی زبان سے ادا ہوتا ہے۔ یہاں تمام حاجی کھلے میدان میں جمع ہو کر اپنے خدا سے اجتماعی عہد کرتے ہیں کہ وہ وہی کریں گے جس کا سبق انھیں حج کی صورت میں دیا گیا ہے۔ وہ اسی میں جئیں گے جس میں وہ لوگ جئے جن کی یادگار میں حج کی عبادت ادا کی جاتی ہے۔ حج کے مناسک کو قرآن میں شعائر کہا گیا ہے (5:2)، یعنی علامتی چیزیں۔ یہ سب دراصل حضرت ابراہیم اور ان کے خاندان پر گزرنے والے واقعات ہیں جو مذکورہ منصوبہ الہی کی تکمیل کے دوران پیش آئے ۔ ان واقعات کو حاجی علامتی طور پر دہراتا ہے اور اس طرح یہ عہد کرتا ہے کہ وہ بھی اسی تاریخ کا جزء بنے گا۔ حاجی گویا یہ عہد کرتا ہے کہ اگر ضرورت پیش آئی تو وہ اپنی دنیا کو اجاڑ کر حق کی طرف بڑھے گا۔ وہ آرام و راحت کو چھوڑ کر قناعت اور سادگی پر اپنے آپ کو راضی کرے گا۔ وہ خدا کے لیے دوڑے گا اور خدا کے گرد گھومے گا۔ وہ شیطانی بہکاوے کو "پتھر مار" کر اپنے سے دور بھگائے گا۔ خدا کا دین اس کو جہاں لے جائے وہاں وہ جائے گا۔ اور جس چیز کا تقاضا کرے گا اس کو وہ اس کے حوالے کر دے گا۔ وہ عمل کی زبان میں خدا سے کہتا ہے کہ اگر دوبارہ دین کے لیے ضرورت پیش آئی تو وہ اس آخری حد تک جانے کے لیے تیار ہے کہ اپنی اولاد کو ذبح کر کے دین کی ضرورت پوری کرے ۔ حضرت ابراہیم کا عراق سے چل کر مکہ آنا اور یہاں مذکورہ واقعات کا پیش آنا ایک عظیم خدائی منصوبہ تھا جو ڈھائی ہزار سال میں بروئے کار لایا گیا۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اب سے پانچ ہزار سال پہلے انسانی ذہنی ذہنوں پر شرک کا اتنا غلبہ ہو گیا تھا کہ زندگی کا کوئی شعبہ شرک سے خالی نہ تھا۔ یہ صورت حال نسل در نسل جاری رہی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسانی نسلوں میں شرک کا تسلسل قائم ہو گیا ۔ اس زمانہ کی آبادیوں میں جو شخص بھی پیدا ہوتا وہ شرک کا ذہن لے کر پیدا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page