Urdu book · حقیقت حج

حج ایک تاریخ ساز عمل

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

أَبْنِي بَيْتًا هَاهُنَا، وَأَشَارَ إِلَى أَكَكُمَةٍ مُرْتَفِعَةٍ إِلَى مَا حَوْلَهَا، يَأْتِيهَا السَّيْلُ مِنْ نَاحِيَتَيْهَا، وَلَا يَعْلُو عَلَيْهَا، فَقَامَا يَحْفُرَانِ عَنْ الْقَوَاعِدِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ رَفَعَ الْقَوَاعِدَ مِنْ الْبَيْتِ، فَجَعَلَ إِبْرَاهِيمُ يَأْتِي بِالْحِجَارَةِ، وَإِسْمَاعِيلُ يَبْنِي، حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَ الْبِنَاءُ، جَاءَ بِهَذَا الْحَجَرِ، فَوَضَعَهُ لَهُ، فَقَامَ عَلَيْهِ، وَهُوَ يَبْنِي، وَإِسْمَاعِيلُ يُنَاوِلُهُ، وَهُمَا يَقُولَانِ: رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ( مصنف عبدالرزاق ، جلد 4، صفحه (352)۔ ابن اسحاق روایت کرتے ہیں: مجاہد اور دیگر اہلِ علم نے بیان کیا ہے کہ جب اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خانہ کعبہ کی جگہ کا پتہ بتایا، تو وہ شام سے نکلے اور اپنے ساتھ اسماعیل اور ان کی والدہ ہاجرہ کو لے کر چلے، اس وقت اسماعیل ایک دودھ پیتے بچے تھے۔ ان کے ساتھ حضرت جبر یل بھی تھے، جو انہیں بیت اللہ کی جگہ اور حرم کے نشانات کی طرف رہنمائی کر رہے تھے۔ حضرت ابراہیم جب بھی کسی بستی سے گزرتے تو پوچھتے: ”اے جبریل! کیا مجھے یہاں قیام کا حکم دیا گیا ہے؟" تو جبریل جواب دیتے: ”چلتے رہیں۔ " یہاں تک کہ وہ ان کو لے کر مکہ پہنچے، اور اُس وقت وہاں ببول اور کیکر کے درخت تھے، اور مکہ کے باہر اور اس کے آس پاس عمالیق نامی قوم آباد تھی ۔ بیت اللہ (کی جگہ) اس وقت ایک سرخ اونچی زمین تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جبریل سے پوچھا: ”کیا مجھے ان دونوں کو یہیں ٹھہرانے کا حکم ہے؟" جبر یل نے کہا: ”ہاں۔" چنانچہ انہوں نے ماں اور بچے کو پتھر کے مقام پر اتارا اور ہاجرہ سے کہا کہ وہ یہاں خیمہ بنالیں۔ اس موقع پر انہوں نے دعا کی (جیسا کہ قرآن میں ہے ) ”اے ہمارے رب، میں نے اپنی اولاد کو ایک بے کھیتی کی وادی میں تیرے محترم گھر کے پاس بسایا ہے۔ اے ہمارے رب،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page