Urdu book · حقیقت حج

حج ایک تاریخ ساز عمل

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

تا که وہ نماز قائم کریں۔ پس تو لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کر دے اور ان کو پھلوں کی روزی عطا فرما، تا کہ وہ شکر کریں “ (ابراھیم، 14:37)۔ اُس وقت مکہ میں انسانی آبادی نہ تھی، اور نہ ہی وہاں پانی تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کے پاس ایک تھیلا کھجور اور ایک مشکیزہ پانی کا رکھا اور چل دیے۔ حضرت ہاجرہ تیزی سے ان کے پیچھے گئیں اور کہا: ”اے ابراہیم! آپ ہمیں اس وادی میں چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں، جہاں نہ کوئی انسان ہے نہ کوئی چیز؟“ انہوں نے کئی بار یہی کہا، مگر حضرت ابراہیم نے کوئی جواب نہ دیا۔ آخر کار انہوں نے پوچھا: ”کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟“ حضرت ابراہیم نے کہا: ”ہاں“۔ تب حضرت ہاجرہ نے کہا: ”پھر وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔ “ وہ واپس چلی آئیں، اور حضرت ابراہیم روانہ ہوگئے۔ جب وہ اتنے دور پہنچ گئے جہاں سے وہ ان دونوں کو نظر نہیں آتے تھے، انہوں نے کعبہ کی سمت رخ کر کے دعا کی (جیسا کہ قرآن میں ہے) ”اے ہمارے رب، میں نے اپنی اولاد کو ایک بے کھیتی کی وادی میں تیرے محترم گھر کے پاس بسایا ہے۔ اے ہمارے رب، تا کہ وہ نماز قائم کریں۔ پس تو لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کر دے اور ان کو پھلوں کی روزی عطا فرما، تا کہ وہ شکر کریں “ (14:37)۔ اس کے بعد چند دن اس طرح گزرے کہ حضرت ہاجرہ (کھجور کھاتیں، اور) اسماعیل کو دودھ پلاتیں اور مشکیزہ میں موجود پانی سے پیتی رہیں، یہاں تک کہ مشکیزے کا پانی ختم ہو گیا۔ پھر انہیں اور شیر خوار اسماعیل کو پیاس لگنے لگی۔ وہ بچے کو تڑپتا ہوا دیکھ کر برداشت نہ کر سکیں اور (پانی کی تلاش میں) اپنے سے قریب ترین پہاڑی صفا پر چڑھ گئیں، وادی کی طرف دیکھا کہ شاید کوئی نظر آئے، مگر کوئی نظر نہ آیا۔ وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page