حقیقت حج
Urdu book, p. 93
By Maulana Wahiduddin Khan
سامنے کھڑا ہوا پاتا ہے۔ خدا سے خوف اور محبت کی تاریخ، خدا کے لیے قربان ہو جانے کی تاریخ، خدا کو اپنا سب کچھ بنانے کی تاریخ، خدا کو قادر مطلق کی حیثیت سے پالینے کی تاریخ، خدا کی خاطر اپنے آپ کو مٹا دینے کی تاریخ۔ اس قسم کی ایک عظیم ربانی تاریخ آدمی کے سامنے کعبہ کی صورت میں مجسم ہو جاتی ہے۔ وہ حجری حروف میں لکھی ہوئی اس کو نظر آنے لگتی ہے۔ یہ تجربہ اس کے دماغ کو ہلاتا ہے وہ اس کے سینہ کو پگھلا دیتا ہے۔ وہ اس کو بدل کر نیا انسان بنا دیتا ہے۔ راقم الحروف نے اپنے حج (1982) کے سفر نامہ میں لکھا تھا: ”ہماری قیام گاہ حرم سے بہت قریب شارع ابراہیم الخلیل پر تھی۔ چنانچہ کھانے اور مختصر سونے کے علاوہ میرا بیشتر وقت حرم میں گزرتا تھا۔ میرا روزانہ کا معمول تھا کہ میں باب الحجرہ کے پاس زمزم کے پانی سے وضو کرتا، اس کے بعد سیر ہو کر زمزم کو پیتا اور پھر حرم میں داخل ہو جاتا۔ اکثر میں حرم کے اوپر کے حصہ میں جاتا تھا۔ کیونکہ اوپر کے حصہ میں نسبتاً بھیڑ کم ہونے کی وجہ سے سکون رہتا تھا۔ وہاں میں نماز پڑھتا، تلاوت کرتا، کعبہ کو دیکھتا، اللہ کو یاد کرتا۔ روزانہ گھنٹوں اس طرح گزر جاتے کہ مجھے وقت کا کچھ اندازہ نہ ہوتا۔ خواہ کتنی ہی زیادہ دیر ہو چکی ہو، جب میں حرم سے لوٹتا تو محسوس ہوتا کہ طبیعت سیر نہیں ہوئی۔ کعبہ کے سامنے بیٹھ کر دل کی جو کیفیت ہوتی تھی اس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔“ مصیبت میں راحت حج کے موقع پر بیک وقت ساری دنیا کے لوگ جمع ہوتے ہیں۔ اس بنا پر حج میں بار بار ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچتی ہے۔ بار بار ایسے مواقع سامنے آتے ہیں جو آدمی کی طبیعت پر بے حد شاق معلوم ہوتے ہیں۔ ایسے مواقع پر آدمی اگر اپنے آپ کو اللہ کی طرف متوجہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader