Urdu book · حقیقت حج

غیر معمولی سفر

Urdu book, p. 95

By Maulana Wahiduddin Khan

غیر معمولی سفر حج کے مذکورہ سفرنامہ (1982) میں تاثرات بیان کرتے ہوئے لکھا گیا ہے: ”1982ء میں میں بعض ملکوں کے سفر پر نکلا۔ اس سفر میں حج کا پروگرام شامل نہ تھا۔ حتیٰ کہ میرے ذہن میں اس کا تصور بھی نہ تھا کہ میں حجاز پہنچ کر حج کا فریضہ ادا کروں۔ افریقہ (روانڈا) پہنچا تو وہاں ایک بزرگ دوست محمد سلیمان القائد (وفات 1996) مل گئے اور ان کے ساتھ اچانک سفرِ حج کے اسباب پیدا ہو گئے۔ اس معاملہ میں میرے ساتھ بالکل وہ صورتِ حال پیش آئی جو کسی شاعر نے اپنے اس شعر میں بیان کی ہے: خدا کے دَین کا موسیٰ سے پوچھیے احوال کہ آگ لینے کو جائیں پیمبری مل جائے یہ میری محرومی تھی کہ میں نے ابھی تک حج کا پروگرام نہیں بنایا تھا۔ وطن سے میں ایک اور سفر کے لیے نکلا۔ مگر اللہ نے عجیب و غریب طور پر ایشیا اور یورپ اور افریقہ کا سفر کراتے ہوئے مجھ کو ارضِ حرم میں پہنچا دیا تا کہ میں حج کی سعادت حاصل کر سکوں۔ حج کرنے والا اگرچہ میں تھا مگر حج کرانے والا صرف خدا تھا۔ اس میں کسی اور کا کوئی دخل نہ تھا۔ آخر کار جب میں حرم میں پہنچا اور کعبہ پر نظر پڑی تو یہ ایک ایسا منظر تھا جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ کعبہ کو دیکھنا اور کعبہ کے پڑوس میں اپنے آپ کو پانا اتنا پر کیف ربانی تجربہ ہے جس کے اظہار سے میرا قلم عاجز ہے۔ اس غیر متوقع نعمت کو پا کر دل کی عجیب کیفیت ہوئی۔ بے اختیار میری زبان سے نکلا: خدایا، میں نے ابھی تک اپنی زندگی میں حج کا پروگرام نہیں بنایا تھا۔ گویا کہ میں حج کیے بغیر مر جانے پر راضی تھا۔ یہ تیرا کیسا عجیب احسان ہے کہ تو نے مجھ کو اس ناقابلِ بیان محرومی سے بچا لیا۔“ یہ بظاہر ایک حاجی کے وہ تاثرات ہیں جو مخصوص حالات میں اس پر طاری ہوئے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی تاثر ہر حاجی پر طاری ہونا چاہیے ۔ ہر حاجی پر یہ کیفیات طاری ہونی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page