Urdu book · حقیقت حج

حقیقت حج

Urdu book, p. 96

By Maulana Wahiduddin Khan

چاہیے کہ وہ اپنے حج کو خدا کی طرف سے کرایا جانے والا حج سمجھے۔ وہ جب ارض حرم میں پہنچے تو وہ محسوس کرے کہ یہ دراصل خدا ہے جس نے اس کو اس نوبت تک پہنچایا ہے۔ وہ ایک عام مسافر کی حیثیت سے اپنے وطن سے نکلا مگر جب وہ منزل پر پہنچا تو وہ خدا کا مہمان تھا۔ اس نے صرف ایک زمینی راستہ طے کیا تھا مگر اللہ نے اس کو ایک ایسے ماحول میں پہنچا دیا جہاں ہر طرف آسمانی برکتیں بکری ہوئی ہیں۔ اس کے پاس صرف محرومی کا اثاثہ تھا مگر اللہ نے اپنی رحمت خاص سے اس کے کھونے کو پانا بنا دیا۔ فیض بقدر استعداد کعبہ زمین پر خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تاریخی طور پر یہاں ایسے اسباب فراہم کیے ہیں کہ جو شخص وہاں جائے وہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں پھٹکی ہوئی انسانی روحوں کو خدا کا آغوش دیا جاتا ہے۔ وہاں پتھرائے ہوئے سینوں میں عبدیت کے چشمے جاری کیے جاتے ہیں۔ وہاں بے نور آنکھوں کو خدا کی تجلیات دکھائی جاتی ہیں۔ تاہم اس دنیا میں ”فیض بقدر استعداد“ کا اصول رائج ہے۔ بیت اللہ کا فیض اس کو ملتا ہے جو اس کی استعداد لے کر وہاں جائے۔ بے استعداد لوگوں کے لیے حج کا سفر بس ایک قسم کی سیاحت ہے۔ وہ وہاں جاتے ہیں تا کہ جیسے گئے تھے ویسے ہی دوبارہ واپس چلے آئیں گے۔ مذکورہ سفر نامۂ حج (1982) میں حسب ذیل سطریں درج ہیں: ”وہاں میں نے جو خدائی مناظر دیکھے، جس طرح وہ ناقابل بیان ہیں۔ اسی طرح وہ انسانی مناظر بھی ناقابل بیان ہیں جو وہاں مجھ کو دیکھنے کو ملے۔ میں نے دیکھا کہ لوگ یا تو دنیا کی باتیں کرنے میں مشغول ہیں یا دنیا کا سامان خریدنے میں۔ کچھ لوگ دوسروں کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page