Urdu book · حقیقت حج

حقیقت حج

Urdu book, p. 97

By Maulana Wahiduddin Khan

دھوکا دے کر اپنی پر جوش مذہییت کا اظہار کر رہے تھے۔ حالاں کہ اس قسم کی چیزیں مقامات حج میں جائز نہیں۔ جہاں ہر طرف خدا کے جلوے بکھرے ہوئے تھے تا کہ آدمی ان میں محو ہو جائے ۔ وہاں لوگ انسانی جلوؤں میں گم تھے ۔ جہاں خدا کے فرشتے اتری ہوئے تھے تا کہ لوگ ان سے باتیں کریں وہاں لوگ انسانوں سے باتیں کرنے میں مشغول تھے ۔ جہاں ہر طرف آخرت کا سامان بک رہا تھا وہاں لوگوں کو دنیا کا سامان خریدنے کے سوا کسی اور چیز سے دل چسپی نہ تھی ۔ جس جگہ کا یہ حق تھا کہ خدا کا ڈر انہیں پیچھے کر دے وہاں لوگ دوسروں کو دھوکا دے کر آگے بڑھ جانے کی مہارت دکھا رہے تھے “۔ چند تاثرات مذکورہ سفر نامہ میں حج کے حالات بیان کرتے ہوئے لکھا گیا ہے : ” 14 اکتوبر 1982 کی شام کو ہم نے طواف وداع کیا ، اور رات کو مکہ سے مدینہ کے لیے روانہ ہوئے ۔ کعبہ کا آخری طواف کر کے جب میں حرم سے نکلا تو میری عجیب کیفیت تھی۔ بار بار مڑ کر حرم کو دیکھتا تھا۔ قدم آگے کی طرف بڑھ رہے تھے اور دل پیچھے کی طرف کھنچا جا رہا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے میں اپنے وطن اصلی سے نکل کر وطن غیر کی طرف جا رہا ہوں ۔ اس طرح کی کیفیات کے ساتھ ہم مسجد حرام سے رخصت ہو کر 14 اکتوبر کی شب کو مکہ سے مدینہ کے لیے روانہ ہوئے “۔ ” حرم مدینہ میں داخلہ بڑا اثر انگیز تھا۔ اسلام اور پیغمبر اسلام کی ایک پوری تاریخ آنکھوں کے سامنے گھوم گئی ۔ میری زبان سے یہ دعا نکلی کہ خدایا ، میں تیرے رسول پر صلوة و سلام بھیجتا ہوں ۔ مجھ کو اپنے رسول کی امت میں شامل کر لے ۔ مجھ کو ان لوگوں میں لکھ لے جن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page