حقیقت توحید
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
بنائے ہوئے رہتا ہے۔ مگر مشرک انسان کا کوئی ایک مرکزی نقطہ نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ شرک کی بے شمار قسمیں بن جاتی ہیں — ستارہ پرستی، زمین پرستی، بت پرستی، ارباب پرستی، قبر پرستی سے لے کر نفس پرستی، دولت پرستی، اقتدار پرستی، مفاد پرستی، اولاد پرستی، وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں درجہ بدرجہ غیر اللہ کی پرستش میں شامل ہیں۔ اور قرآن میں ان کی کھلی مذمت کی گئی ہے۔ موحد انسان وہ ہے جو ہر قسم کی برتر حیثیت صرف ایک خدا کو دے۔ اسی سے اپنی مراد مانگے ۔ اسی کے سامنے مراسم پرستش بجالائے ، اسی پر سب سے زیادہ بھروسہ کرے ، اسی کو ہر اعتبار سے برتر حیثیت دے۔ پرستش کسی سے تعلق کے اظہار کا آخری درجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پرستش کی تمام صورتیں صرف ایک خدا کا حق ہیں۔ پرستش کی نوعیت کی کوئی چیز کسی غیر خدا کے لیے جائز نہیں۔ خوف و محبت کا مرکز توحید کا مطلب ہے ایک اللہ پر اعتماد کرنا اور اپنے سارے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader