Urdu book · حقیقت توحید

خوف و محبت کا مرکز

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

دل اور اپنے سارے دماغ کے ساتھ اس سے وابستہ ہو جانا، اُسی کو اپنے خوف و محبت کے جذبات کا مرکز بنانا۔ انسان کے سوچنے اور محسوس کرنے کی جو صلاحیتیں دی گئی ہیں، وہ اپنا کوئی نہ کوئی تو جہاتی مرکز چاہتی ہیں۔ آدمی فطری طور پر چاہتا ہے کہ کوئی ہو جس کی طرف وہ لپکے، جس سے وہ امید رکھے، جس کے اوپر بھروسہ کرے، جس کی یاد کو وہ سرمایۂ حیات بنائے۔ آدمی اپنی ہستی کا ایک مرکز بنائے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ خواہ یہ مرکز دولت و اقتدار ہو یا قبریں اور دیوی دیوتا، یا کوئی دوسری چیز۔ یہ مرکز اگر اللہ کے سوا کوئی اور ہو تو یہ شرک ہے۔ اور اگر انسان صرف اللہ رب العالمین کو اپنی ہستی کا مرکز بنائے تو اسی کو توحید کہتے ہیں۔ اسلام کا تقاضا ہے کہ آدمی اپنی تو جہات کو صرف اللہ کی طرف موڑ دے۔ اس کے سوا کوئی چیز اس کے لئے مرکز توجہ کی حیثیت سے باقی نہ رہے۔ آدمی جب خدا کو اپنا معبود بناتا ہے تو وہ ایک ہستی کو اپنا معبود بناتا ہے جو حقیقی طور پر موجود ہے۔ اس کے برعکس جب کوئی آدمی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page